تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 444
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میں نے اپنے ایک خطبہ میں یہ تحریک کی تھی کہ کوشش کی جائے کہ ہمارے وعدے دولاکھ سے چار لاکھ ہو جائیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دوست وصولی کا بھی خیال رکھیں۔ابھی تک نئے دور کے وعدے بہت کم ہیں۔حالانکہ نو جوانوں کی تعداد پہلے لوگوں سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک جدید کو عام نہیں کیا گیا۔میں نے جماعت کے سامنے ایسی تجاویز رکھی تھیں کہ غریب سے غریب لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے تھے۔مثلاً میں نے بتایا تھا کہ اگر ایک شخص پانچ روپے دے کر تحریک جدید میں حصہ نہیں لے سکتا تو تین ، چار آدمی مل کر اس میں حصہ لے لیں۔میرا تجربہ ہے کہ پہلے پہلے لوگ بہت کم حصہ لیتے ہیں لیکن بعد میں جا کر ان کا اخلاص قابل رشک ہو جاتا ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص نیکی کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں۔میں نے کئی لوگ دیکھے ہیں کہ ابتدا میں انہیں ایک دھیلہ چندہ دینا بھی بوجھ نظر آیا لیکن بعد میں انہوں نے اتنی بھاری رقوم چندہ میں دیں کہ رشک پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے کس کس طرح اپنے پیٹ کاٹ کر چندے دیئے ہیں؟ پس اصل چیز یہ ہے کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے، جس نے تحریک جدید میں حصہ نہ لیا ہو۔اگر ہماری نئی نسل میں کوئی عورت یا کوئی مرد ایسا نہ رہے، جس نے تحریک جدید میں حصہ نہ لیا ہو تو ہمیں بہت بڑی کامیابی ہو ہے۔ہم نے یہ شرط رکھی ہے کہ تحریک جدید میں حصہ لینے والا کم از کم پانچ روپیہ چندہ دے۔لیکن اگر کوئی ایک شخص پانچ روپیہ نہیں دے سکتا تو ایک خاندان پانچ روپیہ دے دے، ایک خاندان پانچ روپیہ نہیں دے سکتا تو دو خاندان پانچ روپیہ دے دیں، دو خاندان نہیں دے سکتے تو تین خاندان دے دیں۔اگر جماعت کے سارے کے سارے افراد اس میں شامل ہو جائیں تو ہماری جماعت اتنی ہے کہ تحریک جدید کے وعدے موجودہ تعداد سے بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔اگر پاکستان کی جماعت اڑھائی لاکھ کی بھی فرض کر لی جائے اور ہر ایک خاندان چار، چار افراد پرمشتمل سمجھ لیا جائے تو 62 ہزار کے قریب خاندان بن جاتے ہیں۔اور چونکہ بعض لوگ کم چندہ دیتے ہیں اور بعض زیادہ ، اس لئے اگر ہم فرض کر لیں کہ ہر ایک خاندان دس روپیہ چندہ دے تو چھ لاکھ سے زائد روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ہر شخص تحریک جدید میں حصہ لے۔اور ہم امید رکھتے ہیں کہ جو آج پانچ روپیہ دیں گے، وہ پانچ روپیہ پر ہی نہیں ٹھہرے رہیں گے۔بلکہ ان میں سے بعض ایک وقت میں چالیس، پچاس روپیہ تک پہنچ جائیں گے۔پس میں پھر تحریک کرتا ہوں ، جماعت وعدوں کو عام کرے۔اور پھر یہ بھی تحریک کرے کہ ہر سال وعدوں میں زیادتی کی جائے ، کمی نہ کی جائے۔444