تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 443
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلدسوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 17 دسمبر 1954ء ہوتی۔کیونکہ انہوں نے اپنا بوجھ اٹھالیا ہوتا ہے۔لیکن ار وہ کام وقت نہیں ہوتا بلکہ اس نے قیامت تک جانا ہوتا ہے تو بہر حال وہ کام اگلی نسلوں کے ذریعہ پورا ہوگا۔دنیا بھر کو اسلام سے روشناس کرانا معمولی امر نہیں۔1300 سال میں مسلمانوں نے اس قدر کامیابی حاصل کی ہے کہ اس وقت ان کی آبادی، دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی ہے۔بلکہ اب تو اسلام کو دنیا میں آئے قریباً 1400 سال ہو چکے ہیں اور ان چودہ سو سالوں میں ابھی دنیا کی آبادی کا 1/4 حصہ مسلمان ہوا ہے ،3/4 حصہ ابھی باقی ہے۔حالات کی تبدیلی اور مسلمانوں کی غفلت اور ستی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ایک نیا سلسلہ قائم کیا ہے۔تا پرانے فرقوں سے جو سستی اور غفلت ہوئی ہے، اس کا ازالہ ہو جائے اور ان کی جگہ ایک نیا فرقہ لے لے۔جو اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کی طرف پہلے فرقوں سے زیادہ توجہ دے۔تا پہلی سستی اور غفلت کا ازالہ ہو اور دنیا کی آبادی کا بقیہ 3/4 حصہ بھی اسلام کے نور سے حصہ پائے۔اور یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے لئے جتنی قربانی بھی کی جائے کم ہے۔خصوصاً ہماری موجودہ تعداد کے لحاظ سے تو یہ کام بہت زیادہ ہے۔ابھی تک دنیا میں ایک ارب 80 کروڑ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جو یا تو اسلام سے متنفر ہیں یا اس کے دشمن ہیں۔کم از کم ان میں سے ایک حصہ ایسا ہے کہ جن تک ابھی تک اسلام کے متعلق کوئی بات نہیں پہنچی۔اب اس ایک ارب 80 کروڑ کو اسلام میں لانے کے لئے چار لاکھ کی جماعت کیا کرسکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ بوجھ ہماری جماعت نہیں اٹھا سکتی۔لیکن اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ کام آہستہ آہستہ ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کام بھی تدریج چاہتے ہیں تو ہم اپنے اس کام کو اس قدر ممتد کر لیں گے کہ یہ دوصدیوں، تین صدیوں یا چار صدیوں میں مکمل ہو جائے۔اور اگر ہم نے لازمی طور پر اس کام کو ممتد کرنا ہے اور اسے ہماری موجودہ نسل نے پورا نہیں کرنا تولازمی طور پر اسے ہماری آئندہ نسلوں نے کرنا ہے۔اور اگر نو جوانوں میں اخلاص، قربانی اور ایثار کم ہو تو ہماری یہ امید بھی موہوم ہو جاتی ہے۔میں موہوم کا لفظ بولنے سے ڈرتا ہوں۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس نے بہر حال ہونا ہے۔لیکن چونکہ اس نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے، اس لئے ہمیں سوچنا پڑے گا کہ یہ کام ہم سے ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اور چونکہ ہماری امیدیں موہوم ہیں اور بظاہر اس میں کامیاب ہونا مشکل نظر آتا ہے، اس لئے ہمارے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ہم کہیں کہ اگر ہماری آئندہ نسلیں چست ہوں تو کام کی رفتار میں تیزی پیدا ہو سکتی ہے۔پس جماعت کے نو جوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ، اپنے باپ دادوں سے زیادہ قربانی کریں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان کے وعدے اپنے باپ دادوں سے کم ہوں اور وصولی ان سے بھی کم ہو۔443