تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 442
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اور وہ خوشی سے دیتا ہے تو دے اور کارکن ضمنی طور پر ایسا کرنے کی تحریک کرتے رہیں۔لیکن ان کی زیادہ تر توجہ وعدے لینے کی طرف ہونی چاہئے۔جماعت جس کام میں لگی ہوئی ہو ، خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی اس کام میں مدد دیتے ہیں۔اور لوگوں کے دلوں میں اس کی تحریک کرتے رہتے ہیں۔جب امام کی طرف سے وعدے لینے کا اعلان ہوا ہو تو خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی دوسرے کاموں کی نسبت اسی کام میں زیادہ مدد کرتے ہیں۔پس چاہئے کہ گزشتہ سال کے وعدے وصول کرنے اور آئندہ سال کے لئے وعدے لینے پر زور دیا جائے۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ گزشتہ سال کے وعدوں میں سے ابھی تک ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ کی وصولی باقی ہے۔اگر یہ وعدے وقت پر وصول ہو جاتے تو اس وقت کام کرنے والوں کو جو تشویش ہے، وہ دور ہو جاتی۔جہاں تک وعدوں کا سوال تھا، گزشتہ سال کے وعدے پورے سال کے بوجھ کو اٹھا سکتے تھے، جو روز بروز بڑھ رہا ہے۔اور موجودہ تشویش باقی نہیں رہتی تھی۔اب بھی دوستوں کو چاہئے کہ جو لوگ ابھی تک تحریک جدید میں شامل نہیں ہوئے ، انہیں زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے اور ان سے وعدے لے کر مرکز میں بھجوائیں۔پھر ان کی وصولی پر زور دیں۔یہ نہ ہو کہ سال ختم ہونے پر ہم کچھ مالی بوجھ اپنے ساتھ لے جائیں۔تین، چار سال سے یہی ہورہا ہے کہ سال ختم ہونے ر کچھ نہ کچھ مالی بوجھ ساتھ جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اخراجات کم تھے ، اب چونکہ ہمارے مشن بہت زیادہ وسیع ہو گئے ہیں، اس لئے اخراجات پہلے کی نسبت زیادہ ہیں اور ہمارا بجٹ ہر سال 40-30 ہزار روپے کے خسارہ سے شروع ہوتا ہے۔یہ خسارہ وعدوں میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ وعدوں کی عدم وصولی کی وجہ سے ہوتا ہے۔اگر دوست بقائے وصول کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف سالانہ بجٹ میں خسارہ نہ دکھایا جائے بلکہ ہر سال کچھ نہ کچھ رقم پس انداز ہوتی جائے۔جیسا کہ میں نے پچھلے خطبات میں بتایا تھا، ہمارے نو جوانوں میں زیادہ کمزوری پائی جاتی ہے اور دفتر دوم کے وعدوں کی وصولی کی رفتار بہت کم ہے۔میں نے آج اندازہ لگایا ہے کہ سال ختم ہو چکا ہے لیکن ابھی تک 50 فی صدی وعدے وصول نہیں ہوئے۔حالانکہ اس سے پہلے دور اول میں یہ ہوتا تھا کہ اگر وعدے ایک لاکھ کے ہوئے ہیں تو سال کے اختتام سے پہلے ایک لاکھ سے زائد رقم وصول ہو جاتی تھی۔پس نو جوانوں میں ہمت اور اخلاص پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کی طرف مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی۔اس کا قیام اس بات کا موجب ہونا چاہئے کہ نو جوانوں میں اخلاص اور جوش زیادہ ہو۔تو میں اگر ترقی کرتی ہیں تو انہی آئندہ نسلوں کے ذریعہ کرتی ہیں۔اگر ایک نسل اپنا بوجھ اٹھا لیتی ہے تو وہ کام ایک حد تک ہو جاتا ہے۔اگر وہ کام وقتی ہوتا ہے تو کوئی تشویش کی بات نہیں 442