تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 436
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلدسوم اب ایک اور چونی آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور اپنے آپ کو آپ کی بیعت میں شامل کرتا ہوں۔انہوں نے لکھا، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میرے بھائی محمد اکرم خان صاحب نے کچھ کتابیں میرے ٹرنک میں رکھ دی تھیں، ہم پٹھان ہیں، ہم میں اسلام کی خدمت کا جوش ہوتا ہے۔چاہے ہمیں کچھ آئے یا نہ آئے ، ہمارا ارادہ ضرور ہوتا ہے کہ ہم کسی کافر کو ماریں۔وہی جوش مجھ میں بھی تھا۔جب میں انگلستان پہنچا اور میں نے یہاں مختلف مقامات کی سیر کرنی شروع کی تو چونکہ میں گورنمنٹ کا ایک عہد یدار تھا، اس لئے مجھے بعض اداروں کے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔میں نے دیکھا کہ ہمارے ایک کارتوس کے مقابلہ میں ان کے پاس لاکھوں بلکہ کروڑوں کارتوس اور ایک بندوق کے مقابلہ میں لاکھوں بندوقیں ہیں اور طرح طرح کے ترقی یافتہ ہتھیار ہیں۔ہمارے ہاں طیاروں کا نام و نشان نہیں لیکن ان کے پاس بڑی تعداد میں طیارے ہیں۔پھر اس ملک کے کارخانوں کے مقابلہ میں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں۔یورپ کی اس ترقی کو دیکھ کر میرے دل میں مایوسی پیدا ہوئی اور یقین ہو گیا کہ اب اسلام دنیا پر غالب نہیں آسکتا۔اپنی اس کمزوری اور مجبوری کے ہوتے ہوئے ، ہم اتنے بڑے ترقی یافتہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کریں گے؟ تلوار سے مارنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسرا شخص کمزور اور نہتا ہو۔لیکن یہاں تو یہ ہے کہ ہم کمزور اور نہتے ہیں اور دشمن ہم سے کئی گنازیادہ طاقتور ہے۔میری حالت پاگلوں کی سی ہوگئی۔کل شام کو گھر آیا تو مایوسی کی حالت میں، میں نے گھر والوں سے کہا کہ محمد اکرم خاں نے بعض کتب میرے ٹرنک میں رکھی تھیں، وہ دو، شاید ان سے مجھے تسلی مل سکے۔اتفاق سے آپ کی کتاب دعوۃ الا میر" میرے ہاتھ آئی۔اس کے ابتداء میں اتفاقا یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اسلام جب شروع ہوا تو اس کے متعلق کوئی شخص یہ امید نہیں کر سکتا تھا کہ جیت سکے۔لیکن ان مخالف حالات کے باوجود اسلام جیت گیا۔پھر جب اسلام جیت گیا تو کوئی شخص یہ خیال نہیں کر سکتا تھا کہ یہ گرے گا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیشگوئیاں ایسی موجود تھیں کہ اسلام پر ایک وقت ایسا آئے گا، جب اس کے پاس مقابلہ کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔چنانچہ وہی ہوا، جس کا پیشگوئیوں میں ذکر تھا۔یعنی اسلام باوجود طاقتور ہونے کے تنزل پا گیا۔اس کے بعد آپ نے اسلام کی ترقی کے متعلق بہت سی پیشگوئیوں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں، جو اسلام کے تنزل کے متعلق تھیں تو وہ پیشگوئیاں کیوں پوری نہیں ہوں گی، جو اسلام کے دوبارہ غلبہ کے متعلق ہیں؟ جن سامانوں کو سو سال پیشتر خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر آج سے 1300 سال قبل کر دیا۔جس مایوسی کا تم آج سے سوسال قبل اندازہ بھی نہیں کر سکتے تھے، آج سے 1300 سال قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس 436