تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 432
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم مسافر ایک ماہ میں پہنچ سکتا ہے، وہاں تک خدا تعالیٰ نے میر ا رعب پہنچا دیا ہے۔چنانچہ آپ کے ابتدائی 13 سالوں میں آپ کی آواز حبشہ نجد اور اردگرد کے علاقہ میں پہنچ گئی تھی۔حضرت مسیح موعود کو بھی دیکھ لو، آپ کے ماننے والے بھی ابتداء میں 50 ، 60 ہی تھے۔لیکن سارے ہندوستان میں ایک شور مچ گیا تھا، مکہ تک سے کفر کے فتوے آگئے تھے۔حالانکہ " کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔آپ کے ماننے والے پچاس، ساٹھ کی تعداد میں تھے، اس سے گھبرانے کی کون سی وجہ تھی ؟ اس کی صرف ایک ہی وجہ تھی کہ شیر کا بچہ ، پہلے دن بھی شیر کا بچہ ہوتا ہے اور بھیڑ کا بچہ سو سال کے بعد بھی بھیڑ کا ہی بچہ ہوتا ہے۔وگوں کو اس قلیل جماعت میں بھی ایک شان نظر آتی تھی، اس لئے دوسرے لوگ اس کے مخالف ہو گئے۔ایک دفعہ ایک مدعی نبوت نے مجھے لکھا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ میں نے آپ کو اتنے خطوط لکھے ہیں اور اتنے رسالے بھیجے ہیں لیکن آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا، آپ کم سے کم ان کی نے تردید تو کر دیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ مجھے مان لیں لیکن اس قدر تو کریں کہ ان کی تردید کر دیں۔میں نے سمجھا کہ اب اس خط کا جواب مجھے ضرور دینا چاہئے۔چنانچہ میں نے اسے لکھا کہ یہ تردید بھی قسمت والوں کو میسر آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو، آپ نے دعوی کیا تو سارے لوگ آپ کے خلاف کھڑے ہو گئے۔لیکن ہم تمہاری کتابوں اور رسالوں کی تردید بھی نہیں کرتے۔یہ ثبوت ہے، اس بات کا کہ تمہارے ساتھ خدا تعالیٰ نہیں۔لوگ کہتے ہیں، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔جب کوئی تعلیم پھیلنے والی ہوتی ہے تو اس میں جامعیت پائی جاتی ہے اور لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اس تعلیم میں وہ خوبیاں موجود ہیں، جو دوسرے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیں گی۔لیکن جس تعلیم میں یہ خوبیاں موجود نہ ہوں، اس میں جامعیت نہ پائی جاتی ہو تو لوگ سمجھتے ہیں، یہ ردی چیز ہے، اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔فرض کرو ایک آدمی ایک انچ کی دھجی اعلی قسم کی ریشم کی لے آئے تو کیا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ وہ اس سے قمیص تیار کر لے گا ؟ اس طرح اگر کوئی خاص مسئلہ لے کر کھڑا ہو جائے یا کسی اقتصادی نکتہ کے متعلق اپنی تعلیم پیش کرے تو چاہے وہ کتنا ہی اعلیٰ ہو ، وہ مذہب نہیں کہلا سکتا۔اعلیٰ قسم کا مذہب وہی ہو سکتا ہے، جس سے زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایت ملتی ہو۔اگر کوئی مذہب زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایت نہیں دے سکتا تو لوگ اسے قبول نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق لوگوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ آپ کی باتیں مولویوں والی نہیں۔مولوی ایک بات کو لے لیتے ہیں اور اس پر سارا زور لگا دیتے ہیں۔مثلاً بعض اس بات پر 432