تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 431
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء ہوئے ہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر ہے۔ایک عورت نے برقعہ پہنا ہو تو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس چہرہ پر برص ہے یا نہیں ، یا وہ کیلوں سے بھرا ہوا ہے یا نہیں، اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی ایک آنکھ ہے یا نہیں ، یا وہ بھینگی ہے یا نہیں۔لیکن اگر کسی کا چہرہ کھلا ہوا ہوتو لوگ اس پر کئی اعتراضات کر سکتے ہیں۔لیکن ہم اس کا مقابلہ ایک برقع پوش عورت سے نہیں کر سکتے۔یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں برقع پوش عورت کے مقابلہ میں اس غیر برقع پوش عورت پر زیادہ اعتراضات ہوئے ہیں۔اگر کوئی غیر برقع پوش عورت کا مقابلہ برقع پوش عورت سے کرتا ہے تو وہ پاگل ہے۔اسی طرح ہم کہیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے، جیسے ایک غیر برقع پوش عورت کی مثال، برقع پوش عورت کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔آپ کی زندگی سورج کی طرح ہے، اس کا ہر پہلو نظر آ سکتا ہے۔لیکن دوسرے انبیاء کی زندگیاں بند کتاب کے طور پر ہیں۔پس آپ کی زندگی ہمارے لئے ایک نمونہ ہے۔جب آپ نے دعوئی فرمایا تو ابتداء میں صرف ایک شخص (یعنی حضرت ابو بکر ) آپ پر ایمان لایا۔وہ لوگ جنہوں نے بعد میں اسلام میں بڑے بڑے درجات حاصل کئے ، ان میں بھی بعض ایسے تھے، جنہوں نے ابتدائی زمانہ میں آپ کی سخت مخالفت کی۔مثلاً خلافت کے زمانہ میں سب سے زیادہ روشن زمانہ حضرت عمر کی خلافت کا ہے۔لیکن آپ بھی ایک عرصہ تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔پھر آپ کے زمانہ میں بھی اور آپ کے بعد بھی بہترین اسلامی کمانڈر خالد بن ولید تھے۔لیکن آپ بھی ہجرت کے بعد چھ سال تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرتے رہے۔پھر جب خلافت میں تنزل آیا تو اس کی گری ہوئی عمارت کو سنبھالنے والے معاویہ تھے۔لیکن آپ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں ایمان لائے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی زندگی میں صرف 80، 90 آدمی آپ پر ایمان لائے تھے۔بعض کے نزدیک ان کی تعداد 200، 300 تک تھی۔اب دیکھو، ایک شخص جو 13 سال تک یہ دعویٰ کرتارہا کہ وہ ساری دنیا کو فتح کرلے گا، وہ یہ اعلان کرتا رہا کہ اس کی جماعت آخر غالب آئے گی اور اس کی پیش کردہ تعلیم دوسری سب تعلیموں پر غالب آئے گی ، اس کی جماعت میں اگر 13 سال کے لیے عرصہ میں 200 یا 300 آدمی داخل ہو گئے تو بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ یہ ایسی چیز نہیں، جس کے ذریعہ دنیا کو فتح کیا جا سکے۔ہاں ایک چیز ضرور تھی اور یہی انبیاء کی سچائی کی علامت ہوا کرتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نصرت بالرعب مسيرة شهر یعنی جہاں ایک 431