تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 421
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء اس تمہید کے بعد میں تحریک جدید کے اکیسویں اور گیارہویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔مجھے اس بات کی خوشی ہوئی ہے کہ تحریک جدید کے پہلے دور والوں نے ایک حد تک قربانی کی ہے۔لیکن افسوس کہ دفتر دوم ابھی اس معیار تک نہیں پہنچا۔اعداد وشمار سے میں ان کی نسبت بیان کرتا ہوں۔دور اول کے بیسویں سال کے کل وعدے دولاکھ ، چار ہزار کے تھے۔ایک وقت میں وہ دولاکھ، پچاس ہزار تک بھی پہنچ گئے تھے۔فرق صرف اس وجہ سے پڑا ہے کہ پہلے ہندوستان اور پاکستان دونوں کا چندہ اس میں شامل تھا، لیکن اب ہندوستان کا چندہ الگ ہو گیا۔30 ،35 ہزار کے قریب وعدے ہندوستان کی جماعتوں کے ہو جاتے ہیں۔دوسرے کمی اس طرح واقع ہوئی کہ 19 سال ختم ہونے پر میں نے ایسے لوگوں کو ، جنہوں نے دور اول میں اپنے اوپر غیر معمولی مالی بوجھ ڈالا تھا، اجازت دی تھی کہ وہ اگر اپنے وعدوں کو کم کرنا چاہیں تو کر لیں۔اس پر بعض لوگوں نے اپنے وعدے کم کر دیئے۔لیکن اکثر حصہ نے باوجود اجازت کے وعدوں میں کمی نہیں کی بلکہ بعض نے حسب سابق اپنے وعدوں میں زیادتی کی تھی۔بہر حال دفتر اول کے کل وعدے دو لاکھ، چار ہزار کے تھے۔جن میں سے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے وعدے وصول ہوئے ہیں۔باقی 80 ہزار کے وعدے وصول نہیں ہوئے۔گویا 60 فی صدی کے قریب چندہ وصول ہوا ہے اور 40 فی صدی کے قریب بقایا ہے۔لاہور شہر کی وصولی اور بقائے برابر ہیں۔یعنی 50 فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں اور 50 فیصدی بقایا ہے۔لاہور کو نکال کر باقی پنجاب نے 65 فیصدی وعدے ادا کر دیے ہیں۔صوبہ سرحد نے بھی 65 فی صدی وعدے ادا کیے ہیں۔ریاست بہاولپور نے 33 فیصد کی وعدے ادا کئے ہیں۔کراچی شہر نے 80 فیصدی چندہ ادا کیا ہے۔صوبہ سندھ نے 65 فیصدی ادا کیا ہے۔بلوچستان نے پچاس فیصدی ادا کیا ہے۔مشرقی پاکستان نے 33 فیصدی ادا کیا ہے۔اور بیرون پاکستان نے 42 فیصدی ادا کیا ہے۔لیکن بیرون پاکستان کے اعداد صحیح نہیں۔کیونکہ ان کا چندہ جون تک جاتا ہے، اس لئے سات ماہ گزرنے کے بعد جور قم وصول ہوگی ، وہ موجودہ رقم کے مقابلہ میں دکھائی جائے گی۔نتیجہ یہ ہے کہ کراچی شہر وعدوں کی ادائیگی کے لحاظ سے باقی سب شہروں اور صوبوں سے بڑھ گیا ہے۔اور اس کے بعد دوسرے نمبر پر صوبہ پنجاب صوبہ سندھ، صوبہ سرحد ہیں۔تیسرے نمبر پر لا ہور شہر اور بلوچستان کا صوبہ ہے۔اور چوتھے نمبر پر ریاست بہاولپور اور مشرقی پاکستان ہیں۔لاہور شہر کی جماعت کی حالت اس وجہ سے کہ تعلیم زیادہ ہے، قابل افسوس ہے۔پچھلے سال تو فسادات ہوئے تھے، اس لئے وصولی میں کمی کے متعلق یہ خیال کر لیا گیا تھا کہ وہ ان فسادات کی وجہ سے ہے۔لیکن اس دفعہ تو فسادات بھی نہیں تھے۔اگر جماعت کے دوست 421