تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 417

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود و 26 نومبر 1954ء سے سو گنا سے بھی زیادہ ہے۔پہلے لوگ احمدیت سے واقف نہیں تھے لیکن اب لوگ احمدیت سے واقف ہو چکے ہیں۔اور ان کی طرف سے جولٹریچر شائع کیا جاتا ہے، اس میں احمد بیت کا ذکر ہوتا ہے۔میں افسوس سے کہتا ہوں کہ ایک کام میں ہم ابھی کامیاب نہیں ہوئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے مبلغین کی سستی کی وجہ سے ہے۔لاہور والوں کا اس وقت کوئی مشن نہیں ، انگلینڈ کا مشن آزاد ہے، جرمن میں ایک مشن تھا لیکن وہاں کے مشنری نے استعفی دے دیا ہے، امریکہ میں ایک مشن قائم ہوا تھا ، لیکن مجھے پتہ نہیں کہ آزاد ہے یا نہیں۔مشن ہمارے ہیں لیکن ہر کتاب کا مصنف جوان مشنوں کا ذکر کرتا ہے، سمجھتا ہے کہ احمدیوں سے مراد لا ہوری جماعت کے لوگ ہیں۔ابھی تک ہم اس کا ازالہ نہیں کر سکے۔ہمارے مبلغ بعد میں ان کے پاس جاتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک انگریز اور ٹینٹسٹ نے ہمارے سارے مشن لاہور والوں کی طرف منسوب کر دیئے۔ہمارے مبلغ نے اسے توجہ دلائی تو اس نے کہا مجھے علم نہیں تھا، مجھے افسوس ہے کہ میں نے غلط طور پر ایک اور جماعت کی طرف منسوب کر دیا ہے۔اگلے ایڈیشن میں ، میں اس کی اصلاح کردوں گا۔لیکن تھپڑ لگ گیا تو بعد میں کلہ ملنے کا کیا فائدہ؟ کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ تھپڑ لگے ہی نہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب کے اندر میل ملاقات کا شوق پایا جا تا تھا، ہمارے مبلغین میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔اب میں نے انہیں جبراً اس طرف لگایا ہے۔وہ صرف مسجد میں بیٹھے رہتے ہیں۔ان کی مثال ایک مکھی کی سی تھی، جو اپنے چھتے پر بیٹھی رہتی ہے۔خواجہ صاحب میں میل ملاقات کرنے ،سوشل تعلقات قائم کرنے اور دوسرے لوگوں کی خاطر مدارات کرنے کا شوق تھا۔اور موجودہ شہرت ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔انگلستان اب بھی مستشرقین کا سردار ہے، دنیا کے دوسرے مستشرقین بھی انگلستان کے ذریعہ ہی ترقی کرتے ہیں۔جرمن کے مشہور مستشرق نولڈ کے کا نام بھی انگلستان کے ذریعہ ہی مشہور ہوا۔اسی طرح فرانس کے مستشرقین ہیں، انہیں بھی جو ترقی نصیب ہوئی ، انگریزی زبان کے ذریعہ ہوئی۔اور اس کی یہ وجہ ہے کہ سلطنت برطانیہ دنیا کے ایک وسیع حصہ میں پھیلی ہوئی ہے اور پھر امریکہ میں بھی انگریزی بولی جاتی ہے، اس لئے انگریزی لٹریچر صرف انگریزوں کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ امریکنوں کے ذریعہ بھی باہر جاتا ہے۔گویا انگریزی زبان کو دوہری طاقت حاصل ہے۔امریکہ کی قوت اور طاقت اور برطانیہ کی وسیع سلطنت کی امداد سے حاصل ہے، جو کسی اور زبان کو حاصل نہیں۔ان مستشرقین سے خواجہ صاحب نے تعلقات پیدا کئے اور ان کے تعلقات اور ان کوششوں کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ وہ لوگ احمدیت اور خواجہ صاحب میں فرق نہیں کرتے۔جیسے پہلے امریکنوں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ پاکستان اور انڈیا الگ الگ ممالک ہیں۔وہ 417