تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 29
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے لکھا کہ میری بیوی کہتی ہے، آپ کی بو از خطبه جمعه فرمورد 14 متی کی کے پاس پانچ، پانچ ایک ایک جوڑا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ وہ بڑے شوق سے آجائیں، میں اپنی بیویوں کے ٹرنک لا کر ان کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔وہ پانچ ، پانچ سو کے جوڑے ہمیں دیتی جائیں اور ہمارے کپڑے خود اٹھا کر لے جائیں۔اس طرح ہمارا ہی فائدہ ہوگا ان کا نہیں۔بلکہ اگر ہمارے سارے کپڑے اور جو تیاں وغیرہ ملا کر بھی پانچ سو سے کم کے ہوئے تو انہیں کم از کم ایک جوڑ اتو پانچ سو کا ہمیں ضرور دینا پڑے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے گھر میں گوٹہ کناری بھی استعمال کرنے والے ہیں۔مگر ایک بھی نہیں ، جس نے ان دنوں گوٹہ کناری خریدا ہو۔پھر بات کیا ہے؟ بات وہی سلیقہ اور ہنر والی آجاتی ہے۔ہماری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے ہمارے ہاں دلی کا رواج ہے۔اور دلی کی عورتیں گوٹہ کناری کو ایسا سنوار کر رکھنا جانتی ہیں کہ ہماری والدہ کو ان کی دادی کے لباس جہیز میں ملے تھے اور وہ ہم کو دکھایا کرتی تھیں۔بلکہ دلی والے تو سوسو سال تک بھی گوٹہ لے جاتے ہیں۔پس یہ تو ٹھیک ہے کہ ان میں بعض گوٹہ کناری استعمال کرتی ہیں، مگر یہ گوٹہ وہی ہے، جو ان کی شادیوں پر خریدا گیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے نہیں لیا یا تحریک جدید کے بعد نہیں لیا۔گوٹہ کناری والے کپڑے ایسے ہی ہیں، جو یا تو بیویوں کو بری میں دیے گئے تھے یا جہیز میں آئے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے ، میں نے اپنی بڑی لڑکی ناصرہ سے جہیز کے ایک کا جوڑے سے متعلق پوچھا۔اس کی شادی 1933ء میں ہوئی تھی ، جس پر چودہ سال گزر چکے ہیں۔اس وقت میں نے اس کو ایک سنہری کام والا کپڑا خرید کر دیا تھا، جو مجھے بہت پسند آیا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ جوڑا اس کے پاس ہے؟ اس نے کہا، وہ اب تک محفوظ ہے۔اب وہ اس لباس کو کہیں استعمال کر لے تو یہ قابل اعتراض بات نہیں ہوگی۔دیکھنے والے میں اگر عقل کا مادہ ہو تو اسے پہلے یہ پوچھنا چاہئے کہ یہ کپڑے کب کے بنے ہوئے ہیں؟ اگر جواب میں اسے یہ بتایا جائے کہ یہ 1934ء کے بعد کے ہیں ، تب تو یہ قابل اعتراض امر ہے۔لیکن اگر وہ کہے کہ میں نے دیر سے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔تو یہ قابل تعریف بات ہوگی اور اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ بڑے اقتصادی دماغ رکھنے والے آدمی ہیں اور اپنی ہر چیز کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔میرا بوٹ ہی ہے، اس کو پہنے اڑھائی سال گزر چکے ہیں۔حالانکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کی دوسرے مہینہ میں ہی ایڑی کھل جاتی ہے اور وہ سلیپر بنا کر گھسٹتے پھرتے ہیں۔پس اگر کسی چیز کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ قابل اعتراض بات نہیں بلکہ قابل تعریف بات ہے۔پھر اصل سوال، جو قابل غور ہے، وہ یہ ہے کہ مساوات کے یہ معنی ہیں کہ تمام دنیا ایک لیول پر ہویا مساوات کے یہ معنی ہیں کہ نبی طور پر ہر شخص قربانی کرے۔اگر اس کے معنی یہ لئے جائیں کہ سب لوگ ایک 29