تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 403

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لئے جگہ چھوڑ دیں۔اس پر وہ اور پیچھے ہٹ گئے۔اتفاق سے اس دن سات آٹھ غلام صحابہ " آگئے۔ان دنوں کمرے چھوٹے ہوتے تھے، اس لئے وہ ان کے لئے جگہ خالی کرتے کرتے جوتیوں میں آگئے۔اور پھر انہیں وہاں سے بھی اٹھ کر باہر آنا پڑا۔اس پر وہ ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر کہنے لگے تم نے دیکھ لیا کہ آج عمرؓ نے ہمیں ان غلاموں کے سامنے کیسا ذلیل کیا ہے۔ان میں سے ایک عقلمند تھا، اس نے کہا تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ یہ کس کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے؟ یہ سب کچھ ہمارے باپ دادا کی کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ لوگ وہ تھے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا تو انہوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا۔ہمارے باپ دادوں نے انہیں مارا پیٹا اور طرح طرح کے دکھ دیئے لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔اب جب اسلام نے ترقی کی ہے تو انہی لوگوں کا حق تھا کہ وہ عزت پاتے۔ان کا حق انہیں مل رہا ہے اور تمہارا حق تمہیں مل رہا ہے۔دوسروں نے کہا، پھر اس کا علاج کیا ہے؟ اس نے کہا، چلو، پھر عمر سے ہی اس کا علاج پوچھ لیں۔چنانچہ وہ واپس آئے ، آواز دی، حضرت عمر نے انہیں اندر بلایا، آپ سمجھتے تھے کہ آج جو سلوک ان سے ہوا ہے، اسے انہوں نے محسوس کیا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا، آج جو کچھ آ لوگوں سے ہوا، میں اس کے متعلق مجبور تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ان لوگوں کی عزت فرمایا کرتے تھے۔اب عمر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ان کی عزت نہ کرے؟ انہوں نے کہا، ہم ساری بات سمجھ گئے ہیں اور ہم اس لئے دوبارہ آئے ہیں کہ آپ سے دریافت کریں کہ اس ذلت کو دور کیسے کیا جائے؟ حضرت عمر خود بھی ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور پھر دوسرے خاندانوں کے شجرہ نسب کو یاد رکھنا ، آپ کے خاندان کے ذمہ تھا۔اس لئے آپ جانتے تھے کہ وہ لوگ کس قدر معزز خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی کیفیت دیکھ کر آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں، آپ کی آواز بھرا گئی اور آپ منہ سے کوئی لفظ نہ نکال سکے۔آپ نے صرف ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا علاج شام میں ہے۔شام میں ان دنوں جنگ ہو رہی تھی۔ان لوگوں نے آپ کا مفہوم سمجھ لیا اور ورا اونٹ اور گھوڑے تیار کئے اور شام کی طرف روانہ ہو گئے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ ان میں سے پھر ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا اور سب کے سب وہیں شہید ہو گئے۔گویا انہوں نے اپنی جان قربان کر کے اپنی ذلت کا داغ دھویا۔لیکن حضرت عمرؓ کے بعد جو لوگ آئے ، انہوں نے اس قومی کیریکٹر کو قائم نہ رکھا۔حضرت عثمان نے پرانے لوگوں کو مختلف کاموں کے لئے آگے بلایا مگر انہوں نے مدینہ چھوڑ نا پسند نہ کیا۔جس پر لاز ما انہیں 403