تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 28
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم 35 آدمی کھانا کھانے والے بن جاتے ہیں۔مگر یہ بھی نصف چھٹانک فی کس سے کم بنتا ہے۔حالانکہ بہت سے گھر ایسے ہیں، جن میں چھٹانک چھٹانک ، ڈیڑھ ڈیڑھ چھٹانک فی کس گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن اگر وہ ہمارے گھر کا کھانا دیکھ لیں تو شور مچانے لگ جائیں کہ یہ کھانا زیادہ اچھا ہے۔اصل میں کھانا پکانے کی بہت سی جزئیات ہوتی ہیں، اگر کھانا صحیح طور پر پکایا جائے ، گوشت کو اچھی طرح گلایا جائے تو بہت تھوڑی چیز میں نہایت اچھا کھانا تیار ہو سکتا ہے۔میں ایک دفعہ راجپورہ گیا۔میرے پاس بائیس تنیس آدمی تھے۔گوشت سبزی وہاں نہیں ملتی۔بلکہ بعض دفعہ دال تک بھی میسر نہیں آتی۔میں نے کہا چلو مرغی لے کر اس کا شوربہ ہی پکالو۔میرا خیال تھا کہ شور بہ اتنا بن جائے گا کہ وہ بائیس تئیس آدمیوں کو کافی ہوگا۔مگر میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک برات آ گئی اور انہوں نے کہا کہ ہم نکاح پڑھوانا چاہتے ہیں۔اس برات میں 35 کے قریب آدمی تھے۔میں نے ام طاہر مرحومہ کو اندر رقعہ لکھا کہ چیز تو یہاں ملتی کوئی نہیں اور 35 مہمان آگئے ہیں۔اب اس کی تدبیر کچھ اس طرح کرو کہ مجھے اندر بلالو، ہم سب فاقہ کر لیں گے اور ان کو کھانا کھلائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے باورچی سے بات کر لی ہے۔اس نے کہا ہے کہ میں اسی میں 55 آدمیوں کو بھگتا لوں گا۔آپ کوئی فکر نہ کریں۔میں ان سے باتیں بھی کروں اور دل بھی دھڑ کے کہ اب بنے گا کیا؟ پہلے خیال تھا کہ شاید وہ نہ ٹھہریں۔مگر چونکہ وہ دور سے آئے تھے، اس لئے میں نے ام طاہر مرحومہ سے کہا کہ غالباً وہ یہاں ٹھہریں گے۔اگر ایسا ہوا تو یہی صورت ہے کہ ان کو کھانا کھلا دو، ہم سب فاقہ کر لیں گے۔تھوڑی دیر کے بعد کھانا آ گیا ، شور به نهایت مزیدار پکا ہوا تھا۔ہم سب نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔اس کے بعد میں گھر گیا اور پوچھا کہ باہر تو گزرگئی تم نے بھی کچھ کھایا یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب نے کھا لیا ہے۔اب یہ اس باور چی کا کمال تھا کہ اس نے بوٹی اور ہڈی کو اس طرح گلا دیا کہ پانی کے اندر بھی شور بے کا مزہ آنے لگا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم جب زندہ تھے، ان کا میرے ساتھ ہمیشہ یہی جھگڑا رہتا تھا۔وہ کہتے تھے کہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ اتنے تھوڑے روپیہ میں گزارہ ہو سکتا ہے۔اس وقت ہمارا سات روپیہ مہینہ فی کس ناشتہ اور کھانے پر خرچ آتا تھا۔مجھے یاد ہے، امتہ اکئی مرحومہ جب تک زندہ رہیں، میں سات روپیہ فی کس کے حساب سے خرچ دیا کرتا تھا۔اس وقت ان کے بطن سے دو بچے تھے، تیسرا ان کی وفات کے قریب پیدا ہوا۔میں تھا، نوکر تھا، پھر اوپر کے اخراجات ، لباس وغیرہ کے متعلق تھے۔مگر ان سب اخراجات کو ملا کر ہمارا بجٹ ہمیشہ 59 روپے مہینہ ہوتا تھا۔لیکن اعتراض کرنے والے اس وقت بھی اعتراض کرتے 28