تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 389
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اکتوبر 1954ء خدمت دین کا ثواب دائمی ہے اور دنیوی مال ایک عارضی اور فانی چیز ہے خطبہ جمعہ فرموده 08 اکتوبر 1954ء۔اس کے بعد میں جماعت کے نوجوانوں کو بالخصوص اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت میں کچھ عرصہ سے وقف کی طرف توجہ نہیں رہی۔خصوصاً جب سے پاکستان بنا ہے، اس وقت سے لوگوں کی توجہ وقف کی طرف سے جاتی رہی ہے۔اس سے پہلے نوکریوں کا جھگڑا ہوتا تھا، جو اچھی نوکریاں ہوتی تھیں ، وہ انگریز لے جاتے تھے، جو دوسرے درجے کی نوکریاں تھیں، وہ ہندو لے جاتے تھے اور جو درمیانی درجہ کی نوکریاں ہوتی تھیں، وہ سکھ لے جاتے تھے اور جو گند باقی رہتا تھا، وہ مسلمانوں کے حصہ میں آتا تھا۔اس وقت مسلمان سمجھتا تھا کہ چلو نوکری نہ سہی ، خدمت دین ہی سہی۔لیکن پاکستان بننے کے بعد ساری نوکریاں مسلمانوں کو ہی ملتی ہیں، اب ان کا انگریزوں، ہندؤوں اور سکھوں سے مقابلہ نہیں رہا۔اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب انہیں جیسے ایم۔اے اور بی۔اے وزیر ہیں ،سیکر یٹری ہیں، ڈائریکٹر ہیں اور انسپکٹر جنرل پولیس وغیرہ ہیں تو وہ بھی کیوں ویسے ہی نہ بنیں؟ پس وہ نوکریوں کے پیچھے پڑگئے ہیں اور خدمت دین کا خیال انہیں نہیں رہا۔حالانکہ یہ ان کے دماغ کی کمزوری کی علامت ہے کہ انہوں نے اس بات کا اندازہ نہیں کیا کہ بڑے عہدے گنتی کے ہوتے ہیں اور وہ صرف گنتی کے چند افراد کو ہی مل سکتے ہیں۔دوسرے لوگ تو پہلے کی طرح نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹیا تے پھریں گے۔پھر انہوں نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ وزارت ،سیکریٹری شپ یا ڈائریکٹر شپ انہیں ضرور ملے گی؟ اب بھی ملک میں دیکھ لو کہئی ایم۔اے اور بی۔اے پاس لوگ فارغ ہیں، انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں۔مگر یہ نقطہ نگاہ تو اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب خدا کے خانہ کو خالی چھوڑ دیا جائے۔اگر خدا تعالیٰ کے خانہ کو خالی نہ چھوڑا جائے تو انہیں سمجھنا چاہئے کہ دین کی خدمت کا ثواب دائی ہے اور دنیوی مال ایک عارضی اور فانی چیز ہے۔جو شخص تمہیں یا چالیس سالہ زندگی کے لئے اتنی محنت کرتا ہے اور تین کروڑ یا تین ارب سال کی آئندہ زندگی کو نظر انداز کر دیتا ہے، وہ کس طرح امید کر سکتا ہے کہ ہم اسے عقلمند سمجھ لیں ؟ اگر وہ خدمت دین کرتا ہے تو ایک نہ ختم ہونے والے عرصہ کے لئے انعام پاتا ہے۔وہ انعام اور اجرتین کروڑ سال کے لئے نہیں، تین ارب سال 389