تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 22
اقتباس از خطاب فرموده 28 مارچ 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کستان کے متعلق جو مشکلات ہیں، خصوصا کشمیر کا جومسئلہ در پیش ہے، اس میں اگر کسی طرح میری خدمات مفید ہوسکتی ہوں تو میں اپنی خدمات پیش کرتا ہوں۔جس محکمہ کو چاہیں ، میرا نام پیش کر دیں۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جرمنی میں اسلام کی تبلیغ اچھی پھیل رہی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ جرمنی اور ہالینڈ میں جو لوگ اسلام لا رہے ہیں، ان میں بہت زیادہ جوش پایا جاتا ہے اور وہ بہت اخلاص اور قربانی کے ساتھ تبلیغی دائرہ کو وسیع کر رہے ہیں۔ان میں یہ بھی جوش پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے وطنوں کو چھوڑ کر یہاں تعلیم حاصل کریں اور پھر مبلغ بن کر اپنے ملکوں میں واپس جائیں اور اسلام کی اشاعت کریں۔انگلستان میں یہ بات نہیں۔اسی طرح امریکہ میں بھی یہ جوش ابھی تک میں نے نہیں دیکھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان میں دین کے متعلق بڑا جوش پایا جاتا ہے اور وہ چندے خوب دیتے ہیں۔مگر میں نے ان میں یہ جوش نہیں دیکھا کہ وہ اپنے وطنوں کو چھوڑ کر آئیں یا جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔جرمن نو مسلموں میں خاص طور پر یہ بات پائی جاتی ہے۔خصوصا کنزے کے ہمارے مبلغ سوئٹزر لینڈ کو خطوط آتے رہتے ہیں کہ کاش مجھے وہاں آنے کی اجازت مل جائے تو میں کچھ اسلام کی خدمت کر سکوں۔اسی طرح ہالینڈ والوں میں بھی بڑا جوش پایا جاتا ہے۔انگلستان میں اب بڑے عرصہ کے بعد ایک انگریز لیفٹیننٹ نے اپنی زندگی اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کی ہے۔اور اب وہ انگلستان میں ہی تبلیغ پرمتعین ہیں۔مگر اس کو جوش سے تبلیغ کر رہے ہیں کہ نہایت مسرت حاصل ہوتی ہے۔چاروں طرف پیدل بھر کر تبلیغ کرتے ہیں۔گرجوں میں جاتے اور دیوانہ وار تبلیغ کرتے ہیں۔ایک دفعہ اشتہارات چھپوانے کے لئے ان کے پاس پیسے نہ تھے تو انھوں نے مزدوری کی اور جو کچھ حاصل ہوا، اس سے اشتہارات چھپوا لئے۔یہ پہلی مثال ہے، جو انگلستان میں تمیں سالہ جدو جہد کے بعد ہمیں دکھائی دی ہے۔لیکن جرمن اور ہالینڈ دونوں جلدی جلدی اسلام کی طرف رغبت کر رہے ہیں اور اپنے اخلاص میں ترقی کر رہے ہیں۔( مطبوعه روز نامہ الفضل 20 اپریل 1948ء) 22