تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 21

تحریک جدید - ایک انہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطاب فرمودہ 28 مارچ 1948ء امریکہ، ہالینڈ، جرمنی اور انگلستان کے نومسلموں کے اخلاص کا ذکر وو خطاب فرمودہ 28 مارچ 1948ء بر موقع جلسہ سالانہ ای طرح امریکہ کی جماعت کی طرف سے بھی تار آئی ہے کہ ہمارا سلام بھی جماعت تک پہنچا دیا جائے اور دعا کی بھی تحریک کی جائے۔امریکن جماعتوں نے اطلاع دی ہے کہ ان کا اس سال کا تحریک جدید کا چندہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں دگنے سے بھی زیادہ ہے۔اس سال انہوں نے تحریک جدید میں تین ہزار ڈالر سے بھی زیادہ کا وعدہ کیا ہے۔ماہوار چندے اور دوسرے چندے ملا کر امریکن جماعتوں کا چندہ دس ہزار ڈالر بنتا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں پچیس ہزار روپیہ سالانہ ایک ایسا ملک، جو شدید مذہبی تعصب رکھتا ہے اور جو کروڑوں کروڑ رو پیدا اسلام کی مخالفت کے لیے اپنے مشنریوں کو دیتا ہے، اس میں ہمارا پچیس ہزار روپیہ سالانہ کا حصہ گویا بالکل حقیر نظر آتا ہے۔مگر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ یہ حصہ ہم نے کس سے لیا ہے؟ جور تم ہمیں چھوٹی نظر آتی ہے، درحقیقت روحانی طور پر بہت بڑی بن جاتی ہے۔اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہے وہاں ہر سال جماعت ترقی کر رہی ہے، نئے نئے مشن قائم ہورہے ہیں۔اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ پرانے نو مسلموں میں بھی اخلاص اور ایمان ترقی کر رہا ہے تو ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ 25 ہزار ، 25 لاکھ کا اور 25 لاکھ ، 25 کروڑ کا اور 25 کروڑ ، 25 ارب کا پیش خیمہ بننے والا ہے۔امریکہ کے علاوہ پرسوں ہی مجھے جرمنی کے متعلق بھی چھٹی ملی ہے۔ایک جرمن نوجوان جن کا کنزے نام تھا اور جن کا اسلامی نام میں نے عبد الشکور رکھا ہے، ان کی خواہش تھی کہ وہ ہندوستان آئیں۔خصوصا جب قادیان پر حملہ ہوا تو وہ بار بار خواہش کرتے تھے کہ اگر میرے لئے پاسپورٹ کا انتظام ہو جائے تو میں مرکز کی حفاظت کے لئے جانا چاہتا ہوں۔آخر ایک لمبی خط و کتابت کے بعد اب گورنمنٹ برطانیہ نے ہمارے مبلغوں کو اطلاع دی ہے کہ جس قدر سوالات گورنمنٹ کے سامنے ان کے متعلق تھے، وہ سب حل ہو چکے ہیں اور اب انہیں جلد ہی پاسپورٹ دے دیا جائے گا۔امید ہے کہ پاسپورٹ ملنے پر وہ بہت جلد اسلام سیکھنے اور پھر اپنے ملک میں اسلام پھیلانے کے لئے یہاں پہنچ جائیں گے۔اسی طرح ایک اور جرمن تو مسلم نے بھی ہمارے سویٹزرلینڈ کے مبلغ کو خط لکھا ہے، وہ ہمبرگ کے رہنے والے ہیں کہ 21