تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 324
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم رکھ لوتو وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میری خاطر 19 سال اشاعت اسلام میں حصہ لے لو۔لیکن اگر کسی شخص کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ کہے کہ تم میری خاطر 19 سال نماز ادا کرلو یا یہ کہے کہ تم میری خاطر 19 سال زکوۃ دے لو یا میری خاطر تم 19 سال روزے رکھ لو تو اس کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ کسی کو 19 سال کے لئے تبلیغ اسلام اور جہادروحانی کے لئے بلائے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ تم نے خود جماعت کو 19 سال کے لئے تبلیغ اسلام اور جہاد روحانی کے لئے بلا کر اس فعل کا ارتکاب کیا ہے۔تو میرا جواب یہ ہوگا کہ اس فعل کا ارتکاب تو میں نے نہیں کیا ، ہاں اس جرم کا مرتکب ضرور ہوا ہوں۔کیونکہ زمانہ تبلیغ اسلام اور جہادروحانی کے فرض کو اتنا بھول گیا تھا اور لوگ اس سے تنے غافل اور نا واقف ہو گئے تھے کہ میری عقل نے بھی خیال کیا کہ 19 سال تک کی کوششوں کے بعد ان کے گناہوں کا ازالہ ہو جائے گا۔لیکن 19 سال کام کرنے کے بعد مجھے اس کا یہ انعام ملا کہ میرا دماغ روشن ہو گیا اور میں نے اپنی غلطی محسوس کرلی کہ میرا 19 سال کی جہادروحانی کے لئے تحریک کرنا لغو بات تھی۔پس مجھے تو نقد جز امل گئی تم کو تو تمہاری قربانیوں کے بدلہ میں اگلے جہاں انعام ملے گا لیکن مجھے اس کا انعام نقد و نقد مل گیا ہے۔میں نے خیال کیا تھا کہ شائد 19 سال کے بعد میں تم کو فارغ کر سکوں گا لیکن 19 سال ختم ہونے سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے نور بخشا اور میں نے اپنی غلطی کو محسوس کر لیا اور سمجھا کہ میرا 19 سال کے لئے تحریک کرنا لغو بات تھی۔جس طرح نماز، روزہ اور زکوۃ ایک مسلمان پر قیامت تک کے لئے فرض ہیں، جہاد روحانی اور تبلیغ اسلام بھی اس پر قیامت تک کے لئے واجب اور فرض ہے۔پس میری مثال اس شخص کی سی ہوگئی ، جو ایک ایسا درخت نگار ہاتھا، جو بہت دیر میں پھل دینے والا تھا۔بادشاہ اس جگہ سے گزرا، اس کا وزیر بھی ساتھ تھا اور وزیرکو بادشاہ کا یہ حکم تھا کہ جب میں کسی شخص کے کام پر خوش ہو کر زہ یعنی مرحبا یا آفریں کا لفظ کہہ دوں تو اسے تین ہزار درہم دے دیا کرو۔بادشاہ نے جب اس بڑھے کو دیر سے پھل دینے والا درخت لگاتے دیکھا تو اس نے کہا بڈھے کیا تیری عقل ماری گئی ہے کہ تو یہ درخت لگا رہا ہے؟ یہ درخت تو بڑی دیر سے پھل دیتا ہے۔جب یہ درخت پھل لائے گا، اس وقت سے پہلے تم قبر میں جا پڑو گے۔بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت! آپ کہتے ہیں کہ میں یہ کام کیوں کر رہا ہوں ؟ حالانکہ یہی کام میرے باپ دادا نے بھی کیا تھا۔اگر یہی خیال میرے باپ دادا کو بھی آتا تو وہ یہ درخت نہ لگاتے اور آج میں اس کا پھل نہ کھاتا۔انہوں نے یہ درخت لگایا اور ہم نے پھل کھایا۔اب میں یہ درخت لگاؤں گا اور میرے بچے اس کا پھل کھائیں گے۔پھر وہ یہ درخت لگائیں گے اور ان کی اولا د پھل کھائے گی۔جب 324