تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 317
تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953ء وہی ہوتے ہیں ، گھوڑے وہی ہوتے ہیں، شیر، چیتے وہی ہوتے ہیں لیکن سرکس آ جائے تو سب لوگ اسے دیکھنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔کیونکہ ان کے کانوں میں یہ آواز پڑتی ہے کہ سرکس میں گھوڑے پر کھڑے ہو کر اس کو دوڑایا جاتا ہے۔اور چونکہ یہ نئی چیز ہوتی ہے، اس لئے لوگ اس کو دیکھنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔یہاں تک کہ سرکس جب گاؤں میں چلے جاتے ہیں تو لوگ اس کو دیکھنے کے لئے اپنے برتن تک بیچ ڈالتے ہیں۔یا مثلا تھیٹر کو ہی لے لو۔آدمی وہی ہوتے ہیں، مگر انہوں نے کسی کا نام ہریش چندر رکھا ہوا ہوتا ہے اور کسی کا نام سکندر رکھا ہوا ہوتا ہے، کسی کا نام دار ارکھا ہوا ہوتا ہے اور کسی کا نام با بر رکھا ہوا ہوتا ہے۔اور وہ ایک کھیل کھیلتے ہیں۔چونکہ یہ دیکھنے والوں کے لئے ایک نئی چیز ہوتی ہے، اس لئے وہ تھیٹر دیکھنے کے لئے بے تاب ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب مسجد کے پاس سے گذرنے والا شخص پوچھتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ اور اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مسجد ہے۔تو وہ حیران ہو کر دریافت کرتا ہے کہ مسجد کیا ہوتی ہے؟ اس پر لوگ اسے بتاتے ہیں کہ جیسے گر جا میں تم لوگ جمع ہو کر عبادت کرتے ہو، اسی طرح مسلمان مسجدوں میں اکٹھے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔جب اسے یہ بات بتائی جاتی ہے تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ مجھے دیکھنا تو چاہئے کہ مسلمان کیا کرتے ہیں؟ اور وہ اپنے دل میں سوچتا ہے کہ کبھی فرصت ملی تو میں مسجد کوضرور دیکھوں گا۔ایسے سو آدمی بھی اگر مسجد کے سامنے سے گذرتے ہیں تو وہ سو کے سوا اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم فرصت ملنے پر کسی دن مسجد دیکھنے کے لئے ضرور آئیں گے۔مگر پھر ان سو میں سے نوے بھول جاتے ہیں اور دس کو توفیق مل جاتی ہے۔اور وہ کسی وقت مسجد دیکھنے کے لئے آ جاتے ہیں۔وہاں امام موجود ہوتا ہے۔وہ مسجد دیکھنے کے بعد اس سے سوال کرتے ہیں کہ اسلام کیا چیز ہے؟ تم لوگ عیسائی کیوں نہیں ہو جاتے ؟ اسلام میں عیسائیت سے بڑھ کر کیا بات پیش کی جاتی ہے؟ اور وہ ان باتوں کا جواب دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان دس میں سے ایک شخص ایسا بھی نکل آتا ہے، جس کے دل پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے اور وہ بار بار مسجد میں آتا اور امام سے ملنا شروع کر دیتا ہے۔اور آخر وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔تو مسجد بھی ایک مبلغ ہے، جس طرح مبلغ ، ایک مبلغ ہے۔پس ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ غیر ممالک میں مساجد کے قیام کی اہمیت کو سمجھے اور اس کے لئے ہرممکن جدوجہد اور قربانی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرے۔یورپ میں اسلام کا بہترین اشتہار مسجد ہے۔بلکہ عیسائی ممالک کے لئے ہی نہیں، ہندو ممالک کے لئے بھی اور چینی ممالک کے لئے بھی اور جاپانی ممالک کے لئے بھی مسجد ایک عجوبہ ہے۔جس طرح لوگ پرانے مقابر اور محلات 317