تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 315

خطبہ جمعہ فرمود و 10 جولائی 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم تعالی عنہ اس وقت تقریر سننے کے لئے آرہے تھے اور ابھی آپ مسجد کے باہر تھے کہ یہ آوازان کے کانوں میں پہنچ گئی۔جب انہوں نے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمارہے ہیں کہ بیٹھ جاؤ تو وہ اسی جگہ بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھٹتے ہوئے ، انہوں نے مسجد کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔کوئی اور شخص پیچھے سے آیا تو اس نے کہا، عبداللہ بن مسعود! تم یہ کیا بچوں والی حرکت کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا، ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میرے کانوں میں آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ ، اس لئے میں یہیں بیٹھ گیا۔اس نے کہا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو نہیں دیکھا، انہوں نے تو ان لوگوں کو فر مایا ہو گا ، جو آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔اس لئے آپ اس حکم کے مخاطب نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو فرمایا ہے کہ بیٹھ جاؤں مگر زندگی کا اعتبار نہیں۔میں نے سمجھا کہ اگر اس جگہ پہنچنے سے پہلے پہلے میری جان نکل گئی اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ایک حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تم نے نہیں مانا تو میں اس کا کیا جواب دوں گا؟ اس لئے خواہ یہ حکم میرے لئے ہو یا نہ ہو، میں نے سمجھا کہ جب یہ آواز میرے کان میں پڑ گئی ہے تو اب میرا فرض ہے کہ میں اس پر عمل کروں۔اسی طرح ایک دفعہ صحابہ بیٹھے تھے اور شراب پی رہے تھے۔اس وقت تک ابھی شراب کی منا ہی کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔کوئی شادی تھی، جس کی خوشی میں شرابیں پی جارہی تھیں اور گانے گائے جارہے تھے۔کہ اتنے میں شراب کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عام طریق یہی تھا کہ جب آپ پر کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو آپ مسجد میں تشریف لاتے اور ذکر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے پر یہ وحی نازل ہوئی ہے۔پھر جو لوگ وہاں موجود ہوتے ، وہ آپ سے سن کر آگے دوسرے لوگوں میں بات پھیلا دیتے اور اس طرح سب میں مشہور ہو جاتی۔اس دن آپ مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے۔جو لوگ وہاں موجود تھے، وہ یہ سنتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے اور جس گلی کوچہ میں سے گذرتے ، یہ اعلان کرتے جاتے کہ شراب حرام ہوگئی ہے۔جب اعلان کرنے والا اس گلی میں سے گذرا ، جہاں لوگ دعوت کھا رہے اور شرابیں پی رہے تھے اور وہ ایک مٹکا ختم کر چکے تھے اور دوسرا من کا شروع کرنے والے تھے، یہاں تک کہ بعض لوگ مخمور ہو چکے تھے اور بعض مخمور ہونے کے قریب تھے تو اس نے وہاں بھی اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے آج سے شراب حرام کر دی ہے۔جب یہ آواز ان کے کانوں میں پڑی تو ایک صحابی نے دوسرے سے کہا کہ ذرا اٹھ کر اس شخص سے پوچھو تو سہی کہ کیا بات ہے؟ اور کیا واقع میں شراب حرام ہوگئی ہے؟ جس شخص سے یہ بات کہی گئی تھی ، اس نے بجائے اعلان کرنے 315