تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 314
خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کا حکم دیا گیا ہے، ہمیں چندہ دینے کا حکم نہیں دیا گیا۔جب کہا جائے احمدیت پر جو اعتراضات ہوتے ہیں، ان کے جوابات دو اور لوگوں کے بغض اور کینہ کو دور کرنے کی کوشش کرو تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم بھی دوسروں کے لئے ہے، ہمارے لئے نہیں۔پس اس غفلت اور جمود کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بعض لوگ مغرور ہو جاتے ہیں اور جتنا جتنا پیسہ انہیں ملتا جاتا ہے، اتنا ہی وہ اپنے آپ کو خدائی احکام سے آزاد سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو حکم بھی دیا جائے ، اس کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے لئے ہے ، ہمارے لئے نہیں۔اس مسجد میں اس وقت دو، اڑھائی سو آدمی موجود ہے، اگر مجھے پیاس لگے تو معقول بات تو یہ ہوگی کہ میں کسی شخص کو مخاطب کر کے کہوں کہ میرے لئے پانی لاؤ لیکن اگر میں کسی کو مخاطب نہیں کرتا اور صرف اتنا کہہ دیتا ہوں کہ کوئی شخص پانی لائے تو دو، چار سو آدمیوں میں سے بعض دفعہ صرف ایک شخص اٹھے گا اور بعض دفعہ ایک بھی نہیں اٹھے گا۔اور ہر شخص یہ خیال کرلے گا کہ یہ بات دوسروں سے کہی گئی ہے، مجھے نہیں کہی گئی۔گویا وہ سب اپنے آپ کو چودھری سمجھنے لگ جائیں گے اور صرف ایک شخص ایسا ہوگا ، جو اپنے آپ کو اس حکم کا مخاطب سمجھے گا اور بعض دفعہ ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر خطیب ایسا فقرہ بولتا ہے تو اس کا یہ منشا نہیں ہوتا کہ ساری مجلس اٹھ کر چلی جائے اور وہ اکیلا مسجد میں رہے اور نہ اس فقرہ کو کلی طور پر پیچ قرار دیا جا سکتا ہے۔حقیقتا اسے کسی ایک شخص کو مخاطب کرنا چاہئے اور بجائے مہم فقرہ استعمال کرنے کے، اسے کسی معین شخص کو کہنا چاہئے کہ وہ جائے اور پانی لائے۔لیکن اگر وہ غلطی سے ایسا نہیں کرتا تو پھر اس فقرہ کا ہر شخص مخاطب ہوگا اور ہر شخص کا فرض ہوگا کہ وہ اٹھے اور پانی لائے۔ہاں اگر انہیں تسلی ہو جائے کہ کوئی خص پانی لانے کے لئے چلا گیا ہے تو پھر باقی لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔لیکن جب تک یہ اطمینان نہ ہو، ہر شخص اس حکم کا مخاطب ہوگا اور ہر شخص کا فرض ہوگا کہ وہ اس کے مطابق عمل کرے۔غرض چودھر بیت والا احساس کہ ہم مخاطب نہیں ، دوسرے لوگ مخاطب ہیں، ہمیشہ انسان کو نیکی سے محروم کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مسجد میں تقریر فرمارہے تھے کہ بعض لوگ آئے اور کناروں پر کھڑے ہو کر تقریر سننے لگ گئے۔ان کے بعد جو اور لوگ آئے ، وہ ان کھڑے ہونے والوں کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پوری طرح سن نہیں سکتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ بعض لوگ بعض دوسرں کو تقریر سننے سے محروم کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا ، بیٹھ جاؤ۔جب آپ نے فرمایا، بیٹھ جاؤ تو اس سے مراد وہی لوگ تھے ، جو آپ کے سامنے کھڑے تھے۔مگر چونکہ آپ نے بلند آواز سے یہ بات کہی، آپ کی آواز باہر بھی پہنچ گئی۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ 314