تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 290

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کریں۔وہ اپنی زندگیاں سلسلہ کے لیے وقف کریں اور باقی لوگ اپنی جیبیں کھولیں اور چندے دیں۔خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کے دل کھول دیئے اور آپ نے تحریک جدید میں چندہ دے کر حصہ لیا اور نو جوانوں کے دل کھولے اور انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔لیکن اب آہستہ آہستہ لوگوں کو مصیبت کے دن بھول گئے ہیں۔حالانکہ مصائب آگے سے بھی زیادہ ہیں۔اب نو جوان پہلے کی طرح اپنی زندگیاں وقف نہیں کر رہے۔بلکہ جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں ، ان میں سے بعض نے آہستہ آہستہ کھسکنا شروع کر دیا ہے۔شروع میں، میں نے یہ طریق رکھا تھا کہ جو واقف زندگی اپنے وقف سے بھاگے، اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا تھا۔لیکن بعد میں، میں نے سمجھا کہ جو اس قسم کے گندے لوگ ہیں، ہمیں ان کو رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ جو شخص ہمارا نہیں، اسے ہم کیوں لیں؟ اس لئے جو شخص جاتا ہے، اسے جانے دو۔چنانچہ جن نو جوانوں نے کہا کہ ہم وقف میں نہیں رہنا چاہتے اور ان کے ذمہ کوئی تعلیمی یا دوسرا قرض نہ تھا، میں نے انہیں فارغ کرنا شروع کر دیا۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی معیار کے کمزور ضرور ہیں۔یا تو وہ پورے غدار ہیں یا آدھے غدار ہیں یا چوتھا حصہ غدار ہیں یا ان میں دسواں ، بیسوں ، پچاسواں ، سواں یا ہزارواں حصہ غداری کا پایا جاتا ہے۔اور غداری نہیں تو کمزوری ضرور ہے۔بہر حال وہ نص جو ایک دفعہ وقف کرتا ہے اور پھر اس سے پیچھے ہتا ہے ، غداری یا کمزوری سے پاک نہیں۔اب ہماری یہ پالیسی ہے کہ جس شخص نے ہمارا روپیہ استعمال نہیں کیا ، وہ اگر وقف سے فراغت مانگتا ہے تو مانگ لے، ہم اسے اجازت دیتے ہیں۔ہاں ہم ان کو برا ضرور مانتے ہیں، جو وقف سے بھاگنا تو چاہتے ہیں لیکن وہ ہمارے منہ سے کہلوانا چاہتے ہیں کہ تم چلے جاؤ۔مثلاً وہ کام خراب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگ یقینا غدار ہیں۔لیکن جو شخص خود کہتا ہے کہ میں وقف سے فارغ ہونا چاہتا ہوں، ہم اسے فارغ کر یتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے ایمان میں کمزوری ہے ، شاید با ہر جا کر اس کا ایمان مضبوط ہو جائے۔لیکن جو شخص ہمیں دھوکا دینا چاہتا ہے، وہ باہر جا کر بھی کمزور اور بے ایمان ہی رہے گا۔چندوں کے لحاظ سے بھی ، جب میں نے سن چونتیس میں تحریک جدید کا اجراء کیا تھا، اس وقت جماعت کی مالی حالت آج کی نسبت بہت کم تھی۔اس کی تعداد بھی آج کی نسبت بہت کم تھی۔اب تعداد بہر حال بہت زیادہ ہے اور مالی حالت اس زمانہ کی نسبت بہت اچھی ہے لیکن اس وقت جس طرح تحریک جدید کا خیر مقدم کیا گیا تھا، ویسا خیر مقدم اب نہیں کیا جاتا۔اب بھی لوگ تحریک جدید میں حصہ لیتے ہیں لیکن زیادہ تر تعداد حصہ لینے والوں میں انہی لوگوں کی ہے، جنہوں نے شروع میں ہی میری آواز پر لبیک کہا تھا۔بے شک بعد والوں میں بھی جوش ہے لیکن اتنا جوش نہیں ، جتنا ابتداء میں لوگوں میں پایا جاتا تھا۔290