تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 289
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1952ء نے بھی دعوتوں کو ختم کر دیا۔یہ دستو راب کم سے کم مرکز میں قائم ہو گیا ہے۔بہر حال کچھ چیزیں ایسی ہیں، جنہیں جاری کرنا ضروری ہے۔لیکن چونکہ ہم بعض باتوں کو جاری نہیں رکھ سکے، اس لئے ہم اپنے مقام سے ہٹ گئے۔حالانکہ کھانے وغیرہ میں سادگی نہایت ضروری چیز ہے۔ہم نے تحریک جدید کے اجراء کے ساتھ ساتھ کفایت کا سلسلہ اس لئے شروع کیا تھا کہ انسان پر قحط کا وقت بھی آتا ہے، جب ایسا وقت آجائے تو وہ اشاعت اسلام میں سستی نہ کرے۔وہ برابر چندے دے تا کہ کام رکے نہیں۔جب اسے سادگی کی عادت ہوگی تو لازما خرچ بھی کم ہوگا اور جب خرچ کم ہوگا تو وہ قحط میں بھی چندے ادا کر سکے گا۔لیکن جو شخص رفاہیت اور کھانے پینے میں تکلفات کا عادی ہے، وہ شخص چندوں میں بھی ست ہو جائے گا۔بے شک مومن تو ہر حالت میں مالی قربانی کرے گا لیکن جو کمزور ایمان والا ہے، وہ سہولت کے دنوں میں تو چندہ دے گا لیکن جب قحط کی حالت ہوگی تو وہ چندوں میں ستی کرے گا اور اس طرح اپنے ثواب کو کم کرے گا۔میں نے تحریک جدید کے اجراء کے وقت خاص طور پر عورتوں کو سادگی کی طرف توجہ دلائی تھی۔لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے پوری طرح تعاون نہیں کیا۔اور مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ لجنہ اماءاللہ نے اپنے فرض منصبی کو پورا نہیں کیا۔وہ اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے مکان اور دفتر بنالیا ہے۔ممکن ہے کہ مجھے اور لجنہ اماءاللہ کو توڑ کر عورتوں کی تنظیم کسی اور رنگ میں کرنی پڑے۔کیونکہ ان میں کام کی صحیح روح نہیں پائی جاتی۔باہر سے مجھے چٹھیاں آتی ہیں کہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے کوئی تحریک نہیں آتی ، چٹھیوں کا جواب نہیں دیا جاتا۔چنانچہ امریکہ سے مجھے خط آیا ہے کہ سال بھر میں مرکز کی طرف سے کوئی تحریک نہیں آئی اور ہمیں پتہ نہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا خدا تعالیٰ اور دین سے دور جا چکی ہے۔اور اب اس پر اتنے مصائب اور آفتیں آئی ہیں کہ اس میں تڑپ پیدا ہو گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آواز آنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کی آواز کے بغیر ان کا گزارہ نہیں۔بیرونی ملکوں سے بھی اب اس قسم کے خطوط آتے ہیں کہ دنیوی ذرائع سے اب ہم اتنے تنگ آگئے ہیں۔اب خدا تعالیٰ ہی مدد کرے تو کرے، ہماری تمام تدابیر فیل ہوگئی ہیں۔غیر اور دشمن تو اسلام سے ناواقف ہے ہی ، وہ اسلام کو ایسے رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے کہ انسان کو گھن آتی ہے لیکن بڑی مصیبت یہ ہے کہ اپنے بھی اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔" میں نے انہی حالات کو دیکھتے ہوئے اور ان کی غرض وغایت کو پہچانتے ہوئے ، جماعت کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ نوجوان آگے آئیں اور اشاعت اسلام کے لئے اپنی جانیں پیش 289