تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 288

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1952ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تحریک جدید کے اجراء کے وقت اس میں یہ بات بھی شامل کی گئی تھی کہ ہمارے سارے پروگرام سادہ ہوں۔ہم سادہ کپڑے پہنیں، سادہ خوراک استعمال کریں ، دعوتوں اور شادیوں میں سادگی اختیار کریں۔کچھ عرصہ تک تو اس پر عمل ہوتا رہا لیکن اب اس میں ایک حد تک کمزوری پیدا ہوگئی ہے۔دراصل اس میں بعض باتیں اصلاح طلب تھیں۔مثلاً بعض بیمار ہوتے ہیں۔وہ بیمار ہونے کی وجہ سے اس تحریک پر پوری طرح عمل نہیں کر سکتے یا بعض جگہوں پر ملکی رسم ورواج کے مطابق کھانے کی طرز ایسی ہوتی ہے کہ ایک کھانے میں کفایت نہیں ہو سکتی۔مثلاً جب یہ تحریک شروع ہوئی تو مجھے بہار اور بنگال سے خطوط آنے شروع ہوئے کہ ہمارے ہاں کھانے کا دستور ایسا ہے کہ ہم اس سکیم پر پوری طرح عمل نہیں کر سکتے۔وہاں چھوٹے چھوٹے گھروں میں بھی ایک دوکھانے تیار ہو جاتے ہیں۔مثلاً وہ لوگ ابلے چاول کھاتے ہیں۔خشک چاول کو کھانے کے لئے اور اسے صحیح طور پر ہضم کرنے کے لئے کسی پہلی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ لوگ پتلی سی دال بنا لیتے ہیں اور اس سے چاولوں کو تر کر لیتے ہیں۔لیکن وہ ہمیشہ اس سادہ دال سے طاقت قائم نہیں رکھ سکتے ، اس لئے وہ تھوڑ اسا سالن بھی ساتھ پکا لیتے ہیں۔دال کے ساتھ خشکہ کو کھانے کے قابل کر لیتے ہیں اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے تھوڑ اسا سالن بھی استعمال کر لیتے ہیں۔غرض کھانے کے دستور کے مطابق چھوٹے چھوٹے گھر میں بھی دو ستم کا سالن تیار ہو جاتا ہے۔اب اگر یہ حکم دیا جائے کہ وہ ایک سالن پکا ئیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ یا تو وہ صرف دال پر گزارہ کریں اور اس سے ان کی صحتیں خراب ہوں گی اور یا پھر سالن پکائیں۔اگر وہ روزانہ سالن پکائیں گے تو اس پر خرچ زیادہ ہوگا۔پس چاہئے تھا کہ ہم آہستہ آہستہ ان کی مشکلات کو دور کرتے اور انہیں ایسا بنا دیتے کہ وہ اس سکیم پر عمل کر سکتے۔اسی طرح بیمار اور بوڑھے ہیں ، ان کے لئے بھی ایک کھانے پر گزارہ کرنا مشکل ہے۔اس لئے چاہئے تھا کہ ایسی تجاویز اختیار کی جاتیں کہ احمدی اپنی صحت اور قوت کو بھی برقرار رکھ سکتے اور پھر بھی سادہ رہتے۔لیکن چونکہ ان باتوں پر پہلے غور نہیں کیا گیا، اس لئے بعض لوگوں کے لئے یہ سکیم نا قابل عمل ہو گئی اور آہستہ آہستہ وہ لوگ اس پر عمل کرنے میں کمزوری دکھانے لگے۔مگر ضرورت ہے کہ بعض طریق ایسے اختیار کئے جائیں کہ جماعت کے لوگ سادگی کی زندگی بسر کریں۔اور اس کے لئے وقتاً فوقتاً غور ہوتار ہے۔مثلاً شادیوں اور بیاہوں پر ہم نے دعوتوں کو روک دیا تھا۔بعض لوگ چوہدری ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے کوئی حکم نہیں۔میں بعض دعوتوں پر گیا تو چوہدری قسم کے لوگوں نے چائے وغیرہ تیار کر دی۔میں نے چائے نہ پی۔اس پر آہستہ آہستہ ان لوگوں کو 288