تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 287

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد سوم ایک کالج قائم ہے۔اس میں سے آٹھ، دس مبلغ سالانہ نکلتے ہیں۔جن از خطبه جمع فرموده 28 نومبر 952 میں نصف تو صدرانجمن احمد یہ لے لیتی ہے اور نصف تحریک جدید لے لیتی ہے۔اگر تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کو ملنے والے مبلغین کی تعداد پانچ، پانچ بھی ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پچھلے انیس سال میں دس گنا مبلغ ہوئے ہیں۔اور اگلے انیس سال میں ان کی تعداد میں گنے ہو جائے گی۔یعنی جو مبلغ ابتداء میں تھے، اس سے موجودہ مبلغین کی تعداد اس وقت تک تمہیں گنے زیادہ ہو جائے گی۔کون کہہ سکتا ہے کہ جماعت آئندہ ترقی نہیں کرے گی ؟ اگر جماعت اخلاص اور ارادے میں بڑھ جائے تو جامعة المبشرین کے فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد آٹھ ، دس نہیں رہے گی۔بلکہ ان کی تعداد پندرہ ہیں تک یا چالیس، پچاس تک بڑھ جائے گی اور اس صورت میں آئندہ انیس سال کے بعد مبلغین تحریک جدید سے پہلے کے مبلغین سے تہیں گنے سے زیادہ نہیں ہو جائیں گے۔بلکہ پچاس گنے یا سو گنے زیادہ ہو جائیں گے۔غرض تحریک جدید کے اجراء کے بعد نہ صرف کئی ممالک میں نئے مشن قائم ہو گئے ہیں بلکہ زائد بات یہ ہوئی ہے کہ براہ راست ان ممالک سے بعض طالب علم یہاں آئے ہیں اور وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اپنی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے اپنے ملک میں جا کر اسلام کی اشاعت کریں گئے“۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے، تحریک جدید کے اجراء سے پہلے کوئی مشنری کا لج نہیں تھا۔اب مشنری کالج کا اجراء ہو گیا ہے اور اس کالج سے ایسے نو جوان نکل رہے ہیں، جو پہلے طلباء سے علم میں زیادہ ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ معیار کے عین مطابق ہیں۔ابھی ان کے لئے اخلاقی علمی اور دینی ترقی کی بہت گنجائش ہے لیکن بہر حال وہ پہلوں سے زیادہ عالم ہیں۔پھر تحریک جدید کے اجراء سے پہلے ہمارے پاس ایسے گریجوائٹ نہیں تھے، جو دینیات سے بھی واقف ہوں۔لیکن اب ایسے نوجوان موجود ہیں، جو مولوی فاضل ہیں اور گریجوائٹ بھی ہیں یا بی اے ہیں اور آئندہ مولوی فاضل بن جائیں گے۔اور اس قابل ہو جائیں گے کہ اگر وہ انگریزی دانوں کی مجلس میں جائیں اور وہ کہیں کہ یہ ملاں ملتے ہیں تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی تمہاری طرح انگریزی جانتے ہیں اور اگر مولویوں کی مجلس میں جائیں اور وہ کہیں کہ تم انگریزی دان ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم مولوی فاضل بھی ہیں اور دین سے ہمیں واقفیت ہے۔گویا جو کچھ تم جانتے ہو، وہ ہم بھی جانتے ہیں۔غرض تبلیغ اور اشاعت اسلام کی نئی راہیں کھل رہی ہیں اور کچھ عرصہ تک علم دین اور علم دنیا میں جوخلیج حائل ہے، وہ پاٹ جائے گی اور اس پر ایسے پل بن جائیں گے، جن کے ذریعے تمام اختلافات دور ہو جائیں گے۔287