تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 286
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 28 نومبر 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم چنانچہ جرمن کے ایک نوجوان عبد الشکور کنزے اس وقت یہاں دین کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تا بعد میں وہ اپنے ملک میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کر سکیں۔امریکہ سے بھی اس تحریک کے سلسلے میں ایک نو جوان یہاں پہنچے ہیں اور وہ بھی دین کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک اور نوجوان کے متعلق بھی اطلاع آئی ہے کہ وہ دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ آرہے ہیں اور وہ غالباً جلسہ سالانہ تک یہاں پہنچ جائیں گے۔اسی طرح جرمنی سے بھی اطلاع آئی ہے کہ ایک اور نو جوان دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ آرہے ہیں۔اس سے قبل غیر ممالک کے طالب علم مرکز سلسلہ میں نہیں آئے تھے۔لیکن تحریک جدید کے جاری ہونے کے بعد باہر سے بھی طلباء آنے شروع ہو گئے اور اب تمہیں کے قریب غیر ملکی طالب علم ربوہ میں موجود ہیں۔چین کے طالب علم بھی ہیں، انڈونیشیا کے طالب علم بھی ہیں، برما کے طالب علم بھی ہیں ،سیلون کے طالب علم بھی ہیں، سوڈان کے طالب علم بھی ہیں ، ایسے سینا کے طالب علم بھی ہیں ، شام کے طالب علم بھی ہیں، جرمنی اور امریکہ کے طالب علم بھی ہیں، انگلینڈ کے طالب علم بھی ہیں ، سمالی لینڈ کے طالب علم بھی ہیں اور ابھی مزید طلباء کے آنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔آج بھی ایسے سینا سے ایک نوجوان کا خط ملا ہے کہ وہ تعلیم دین کے حصول کی خاطر ربوہ آنا چاہتے ہیں۔اسی طرح سمالی لینڈ سے اطلاع آئی ہے کہ وہاں سے بھی بعض اور طالب علم یہاں آ رہے ہیں۔گویا اس تحریک کے نتائج اس رنگ میں ظاہر ہیں کہ بیرونی ممالک کے طلباء ، جن میں سے بعض واقف زندگی ہیں اور بعض واقف زندگی نہیں، یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں۔بے شک بعض نوجوان واقف زندگی نہیں، وہ اپنے طور پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن اگر وہ اخلاص سے دنیوی کا روبار کے ساتھ ساتھ اشاعت اسلام بھی کرتے رہیں تو یہ بھی اسلام کی ایک بھاری خدمت ہو گئی۔بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باہر سے آنے والے نوجوان سارے واقف زندگی نہیں۔کچھ واقف زندگی ہیں اور کچھ نہیں۔لیکن جو واقف زندگی نہیں ، وہ بھی ایسے ممالک سے آئے ہیں، جن تک تحریک جدید سے قبل احمدیت کی تعلیم نہیں پہنچی تھی۔جب یہ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ملکوں میں پہنچیں گے تو اسلام کی اشاعت کے نئے ذرائع نکل آئیں گے۔غرض تحریک جدید سے پہلے تو تین، چار مبلغ بیرونی ممالک میں تبلیغ کر رہے تھے لیکن تحریک جدید کے اجراء کے بعد میرے خیال میں یہ مبلغ پچاس کے قریب ہو گئے ہیں۔گو یا دس گنے زیادتی ہوئی ہے اور ابھی تو ابتداء ہے۔صاف بات ہے کہ جب تک مبلغ پیدا نہیں ہوں گے، اسلام کو ساری دنیا میں نہیں پھیلایا جا سکتا۔میں ان کی موجودہ زیادتی کونہیں دیکھتابلکہ آئندہ کا نقشہ دیکھ رہا ہوں۔اس وقت تحریک جدید کا 286