تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 271
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اپریل 1952ء تبلیغ ہی بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کا ایک طبعی ذریعہ ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 1952ء۔۔۔۔اس سال ہماری مجلس شوری ہوئی۔ہم نے غور کیا اور اس غور کے نتیجہ میں ہم اس بھیانک حقیقت سے آگاہ ہوئے کہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید دونوں ہی ایسے خطرناک مالی تنگی کے دور سے گزر رہی ہیں کہ اگر اس کا علاج نہ ہوا تو آئندہ ترقی تو الگ رہی ، ہمیں گزشتہ کام کو بھی بند کرنا پڑے گا۔اس کی اصلاح کی کوئی تدبیر کرنی چاہیے۔ہم نے لپیٹ لپاٹ کر اس سال کے بجٹ کو پورا کیا ہے۔مگر نہ تو اس قسم کا پٹا لپٹایا اور گھڑا گھڑایا بجٹ قومی زندگی کو برقرار رکھ سکتا ہے اور نہ کسی قوم کا آئندہ بجٹ وہی رہ سکتا ہے، جو گزشتہ سال تھا۔ہماری جماعت ابھی ابتدائی حالت میں سے گزر رہی ہے ، ہمارا نظام ابھی ادھورا ہے، ہم ابھی اپنی زندگی کے اتنے سال نہیں گزار چکے کہ ہمارے کارکنوں میں سے نصف حصہ ابتدائی تنخواہیں لیتا ہو اور نصف حصہ انتہائی تنخواہیں لیتا ہو۔ہمارے اکثر کارکن ابتدائی تنخواہیں لے رہے ہیں۔واقفین ہیں تو ان کے بچے ہونے والے ہیں ، دوسرے کارکن اور ملازم ہیں تو انہیں ترقیات ملنے والی ہیں۔اس لئے اگر آج ہمارا سوروپے میں گزارہ ہو جاتا ہے تو پانچ ، دس سال کے بعد ڈیڑھ ، دوسور و پہیہ میں ہوگا۔بغیر اس کے کہ ہم اپنا کام بڑھائیں یا کوئی نیا مشن یا سکول کھولیں۔ہمارا سالانہ بجٹ بوجہ سالانہ ترقیات اور واقفین کی اولا د اور شادیوں کے بڑھے گا۔باقی رہ ترقی کے روکنے کا سوال سو یہ بھی نہیں ہوسکتا۔" پس تمہیں اپنے اندر فکر کرنے کا مادہ پیدا کرنا چاہئے۔تمہیں ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہی حال تحریک جدید کا ہے۔تحریک جدید نے بھی 82 ہزار روپیہ قرض لے کر اس سال کا بجٹ پورا کیا ہے۔تحریک جدید پر بھی لاکھوں روپیہ کا قرض ہے۔میں نے ساڑھے دس لاکھ روپیہ کے قرضہ کا اندازہ لگایا ہے۔پھر انہوں نے اپنا کام بھی چلانا ہے۔تحریک جدید کا کام اگر چہ زیادہ اہم ہے۔مگر ہمیں دوسرے ممالک میں لڑائی ، بحث مباحثہ اور شورش کا مقابلہ زیادہ نہیں کرنا پڑتا۔امریکہ، انگلینڈ، جاپان وغیرہ بڑی بڑی طاقتیں ہیں، جن کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے۔پھر عرب ہے، جو ہمارا مذہبی مرکز ہے، اس کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔لیکن چونکہ جس قسم کا بحث مباحثہ، تبادلہ خیالات اور لڑائی یہاں ہے، وہ دوسرے ملکوں میں نہیں۔اس لئے ہم وہاں زیادہ مبلغ رکھنے پر مجبور نہیں ہیں۔271