تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 270

خطبہ جمعہ فرمودہ 08 فروری 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ان کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔ان کی زندگیوں میں تو ایک تغیر ہونا چاہیے تھا۔جس طرح خدا تعالیٰ نے ان سے سلوک کیا ہے اور انہیں بلا استحقاق قوم کا لیڈر بنا دیا ہے، اسی طرح ان کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے لیڈر بنیں، جن کی مثال دنیا میں ملنی مشکل ہو۔ان کے کام اپنے نفس کی خاطر نہیں ہونے چاہیں بلکہ ان کے کردار، ان کے افعال، ان کے اخلاق اور ان کے طریق خالصہ مذہب کے لئے وقف ہوں۔اور جب کسی کی زندگی خالصہ کسی مذہب یا جماعت کے لئے ہو جاتی ہے تو اس کے عمل میں دیوانگی پیدا ہو جاتی ہے۔وہ ڈاک خانہ بن کر نہیں رہ جاتا کہ چند خطوط کا جواب دے دیا اور سمجھ لیا کہ بڑا کام کیا ہے۔بلکہ ایسا شخص رات دن سکیمیں سوچتا ہے کہ کس کس طرح میں اپنی قوم کو اونچا کروں ، جس کی وجہ سے اسے عزت ملی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر جو خدمات کی جاتی ہیں ، وہ پے در پے نفع لاتی ہیں۔ان کی یہ خدمت بھی بلا معاوضہ نہیں ہوتی۔فرض کر و جماعت تین لاکھ کی ہے اور وہ قربانی کرتے ہیں اور تعداد تین لاکھ سے چھ لاکھ ہو جاتی ہے۔تو انہوں نے صرف قوم کی خدمت نہیں کی ، انہوں نے اپنی خدمت بھی کی ہے۔وہ پہلے تین لاکھ کے لیڈر تھے ، اب چھ لاکھ کے لیڈر ہو گئے۔اگر وہ اور قربانی کریں اور تعداد بارہ لاکھ ہو جائے تو یہ خدمت اسلام کی بھی ہوگی مگر ساتھ ہی اپنی خدمت بھی ہوگی۔کیونکہ کل وہ چھ لاکھ کے لیڈر تھے تو آج وہ بارہ لاکھ کے لیڈر بن گئے ہیں۔غرض ان کے اندر ایسی دیوانگی ہونی چاہیے، جو دوسری قوموں میں نہ ملے۔لیکن ہمیں نظر آتا ہے کہ یورپین قوموں میں کسی قدر دیوانگی پائی جاتی ہے۔اگر چہ اتنی نہیں ، جتنی اسلام چاہتا ہے۔لیکن ہمارے ناظر اور وکلاء پوسٹ آفس سے بن جاتے ہیں کہ خط آیا اور اس کا جواب دے دیا۔میں ایک دفعہ ان کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے فرائض کو سمجھو۔تم نے بہت بڑا کام کرنا ہے تمہاری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔تم اس دن کو یاد کرو، جب تم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گے تو کیا کہو گے کہ تم کس استحقاق کے ماتحت لیڈر بنے ؟ مسلم لیگ کی کتنی طاقت ہے لیکن دیکھ لو لیگ کی اخباروں میں پرائم منسٹر اور دوسرے وزراء پر کس طرح پھبتیاں اڑائی جاتی ہیں۔لیکن تم جماعت کے نظام میں کس طرح محفوظ ہو۔اس لئے نہیں کہ تم مکمل ہو بلکہ اس لئے کہ جماعت تم پر پھبتیاں اڑانے کی اجازت نہیں دیتی۔وہ تمہاری عزت کی اتنی حفاظت کرتی ہے، جتنی دوسری جماعتیں نہیں کرتیں۔یہ بھی ایک بہت بڑا احسان ہے۔اگر تم اس احسان کو ہی سمجھو تو تمہاری کام کی روح کئی گنا تیز ہو جائے“۔مطبوعه روزنامه الفضل 17 فروری 1952ء) 270