تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 249

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1951ء تک ان میں سے ایک طبقہ کو صحیح جدو جہد کے کرنے کی توفیق نہ مل جائے ، اس وقت تک کامل انحصار بہر حال کو چندوں پر ہی رکھنا پڑے گا۔کچھ کچھ جماعت میں تجارتی ذہنیت آرہی ہے۔لیکن ابھی وہ اس حد تک نہیں آئی کہ ہم اسے اپنی آمد کا ایک بڑا منبع سمجھ لیں۔وہ ایک چھوٹا سا منبع تو ہو گیا ہے لیکن اگر صحیح جدو جہد کی جائے اور پوری توجہ سے کام کیا جائے تو یقیناً تجارت اور زراعت وغیرہ سلسلہ کی آمد کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔لیکن جب تک نہیں بنتے ہمیں جماعت سے ہی کہنا پڑے گا کہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرو۔جو وعدے گزشتہ سالوں کے ابھی تک ہم نے پورے نہیں کئے ، ان کو جس طرح بھی ہو سکے پورا کرو۔اور آئندہ کے لئے اپنے وعدوں کو سال بہ سال ادا کرنے کی کوشش کرو۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس سال تحریک جدید پر اس قدر مالی بوجھ آپڑا ہے کہ دور دوم کی آمد جو ریز روفنڈ کے طور پر ہمیں محفوظ رکھنی چاہیے تھی ، وہ اس سال ریز روفنڈ میں نہیں جاسکی بلکہ ساری کی ساری خرچ ہوگئی ہے۔مگر باوجود دونوں سالوں کی آمد کے خرچ ہو جانے کے پچاس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے۔بلکہ دونوں دوروں کے قرض کو ملا کر یہ رقم اسی ہزار کے قریب بن جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی بہت سے بقائے وصول ہونے باقی ہیں لیکن پانچ ماہ کے اخراجات بھی باقی ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر بقائے ادا ہو جائیں اور ہم اس سے پانچ ماہ کے اخراجات تنگی سے گزارہ کر کے پورے بھی کر لیں ، تب بھی پچاس ہزار روپیہ قرض باقی رہے گا۔پس دوستوں کو اپنے بقائے جلد سے جلد ادا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی نئے سال کی تحریک ہوتی ہے بعض دوست یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب نئی تحریک شروع ہوگئی ہے اور پرانی ختم ہوگئی ہے۔وہ یہ نہی سمجھتے کہ وعدہ پورا کرنے میں دیر کرنا، انسان کو اس وعدہ سے آزاد نہیں کر دیتا بلکہ اسے زیادہ مجرم بنا دیتا ہے۔مگر بعض لوگوں کی یہ ذہنیت ہو گئی ہے کہ وہ نئے سال کی تحریک پر پچھلے سال کی تحریک کے وعدوں کو بھول جاتے ہیں۔مثلاً پچھلے سال اگر انہوں نے پچاس کا وعدہ کیا تھا اور وہ وعدہ ابھی انہوں نے پورا نہیں کیا تھا تو نئے سال کی تحریک ہونے پر وہ فوراً پچھتر کا وعدہ کر دیں گے۔اور یہ وعدہ کرتے وقت ان کا دل اتنا خوش ہوتا ہے کہ وہ اس خوشی میں گزشتہ سال کے وعدہ کو بالکل بھول جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پچھلا سال تو گیا ، اس سال ہم پچھتر روپے ادا کر دیں گے۔پھر پچھتر بھی ادا نہیں کرتے اور اس سے اگلا سال شروع ہو جاتا ہے۔اس پر وہ پھر سور و پسیہ کا وعدہ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں، الحمد لله، خدا تعالیٰ نے ہمیں پچھلے سال سے بڑھ کر چندہ لکھوانے کی توفیق عطا فرمائی۔اور یہ بھی خیال نہیں آتا کہ وہ پچھلے پچاس اور پچھتر بھی ادا کریں۔اس قسم کی ذہنیت والے آدمی بھی 249