تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 248

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم لئے گزشتہ سال کی آمد میں سے دیئے جاتے ہیں۔فروری کے بل مارچ میں ادا ہوتے ہیں، مارچ کے بل اپریل میں ادا ہوتے ہیں اور اپریل کے بل مئی میں ادا ہوتے ہیں۔اور پھر مئی کے بل، جو جون میں ادا ہوتے ہیں، وہ درحقیقت نئے مالی سال کے پہلے مہینہ کی آمد میں سے ادا کئے جاتے ہیں۔اس لحاظ سے اب جنوری میں جو بل ادا ہوں گے ، وہ اصل میں دسمبر کے ہوں گے۔اور اس وقت تک صرف نومبر کے بل ادا ہوئے ہیں اور وہ بھی پچاس ہزار روپیہ قرض لے کر۔گویا مئی، جون ، جولائی اگست ستمبر اکتوبر اور نومبر۔صرف سات ماہ کا خرچ ہم اپنی آمد سے ادا کر سکے ہیں اور وہ بھی اس صورت میں ادا کر سکے ہیں، جبکہ پچاس ہزار روپیہ دوسری جگہوں سے قرض لیا گیا ہے۔اب تقریبا چار مہینے کی آمد باقی ہے اور پانچ مہینے کا خرچ باقی ہے۔لیکن جو آمد باقی ہے، اگر احباب اس کے ادا کرنے سے اس لئے غفلت نہ کرتے کہ اب نیا سال شروع ہو گیا ہے۔اور جو گزشتہ بقائے پندرہویں اور سولہویں سال کے ہیں یا دور دوم کے پانچویں اور چھٹے سال کے ہیں، وہ بھی احباب ادا کر دیں تو امید کی جاتی ہے کہ اس سال کا خرچ نکل جائے گا۔لیکن پچاس ہزار روپیہ کا بار پھر بھی رہے گا۔ہاں اگر گزشتہ سالوں کے سارے بقائے ادا کرنے کی جماعت کو توفیق مل جائے تو یہ پچاس ہزار کا بار اور پچھلے سال کا اٹھارہ ہزار کا بار گویا ستر ہزار کے قریب تحریک جدید پر جو بار ہے ، وہ سب کا سب دور ہو جائے گا۔میہ لازمی بات ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر سال اپنے کام کو بڑھانا پڑے گا اور اگر ہر سال ہم اپنے کام کو بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں خرچ بھی ہر سال زیادہ کرنا پڑے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چندے کے علاوہ بھی بعض اور ذرائع ہوتے ہیں، جن سے آمد پیدا کی جاتی ہے لیکن ہمارے کارکنوں کو ابھی ویسی مشق نہیں ، اس لئے ابھی وہ ان ذرائع کو اختیار نہیں کر سکے یا سستی کر جاتے ہیں یا اختیار کرتے ہیں تو نا کام رہ جاتے ہیں۔حالانکہ انہیں ذرائع سے دوسری قومیں اور افراد اپنی مالی حالت کو درست کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔یہ کوتا ہی جو ہم میں ہے اور جو درحقیقت سارے ہی مسلمانوں میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ چار پانچ سو سال سے حکومت ، تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلتی چلی گئی ہیں اور اب غیر قو میں اس میدان میں بہت آگے نکل گئی ہیں۔لیکن بہر حال اپنی سستی اور عدم توجہی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے جو حالات پیدا کئے ہیں، اب وہ بہت بڑی جدو جہد سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔صرف ارادہ اور معمولی کوشش سے دور نہیں ہو سکتے۔لیکن ہر چیز وقت چاہتی ہے اور پھر عزم چاہتی ہے۔جب تک تحریک جدید کے کارکنوں میں یہ عزم پیدا نہ ہو جائے اور جب 248