تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 247
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم وو اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1951ء تحریک جدید کے چندہ کو زیادہ منظم اور باقاعدہ کیا جائے خطبہ جمعہ فرمودہ 14 دسمبر 1951ء وعدے تحریک جدید کا اعلان میں کر چکا ہوں اور اس وقت تک جماعت کی طرف سے جو جواب آئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نے اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھا ہے اور وہ پوری توجہ کے ساتھ اپنے وعدے بھجوارہی ہے۔چنانچہ تحریک جدید دور دوم کے وعدے اس وقت تک جو آچکے ہیں، گو وہ ضرورت کے مطابق تو نہیں لیکن بہر حال گزشتہ سال کی نسبت یعنی پچھلے سال اس وقت تک جتنے وعد وصول ہوئے تھے، ان سے اس سال کے وعدے دگنے ہیں۔اس کے لازما یہ معنی نہیں کہ جب وعدوں کی معیاد ختم ہو جائے گی تو اس سال کے وعدے گزشتہ سال کے وعدوں سے دگنے ہو جائیں گے۔لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ جماعت اپنے وعدے بھجوانے میں پچھلے سال سے زیادہ مستعدی اور بیداری سے کام لے رہی ہے۔دور اول کے وعدوں کا مجھے صحیح اندازہ نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی ڈیوڑھے کے ہیں۔گو جتنے وعدے پورے وقت کے بعد ہو جاتے ہیں ، ان سے وہ ابھی بہت کم ہیں۔یعنی صرف پانچویں حصہ کے برابر ہیں۔لیکن گزشتہ سال اس وقت تک جتنے وعدے آئے تھے، ان سے تحریک جدید دور اول کے وعدے ڈیوڑھے اور دور دوم کے وعدے دگنے کے قریب آچکے ہیں۔اس سے امید پیدا ہوتی ہے کہ انشاء اللہ وعدوں کی تاریخ کے اختتام پر پچھلے سالوں سے زیادہ ہی وعدے ہوں گے۔اور جس سرعت کے ساتھ جماعت نے اپنے وعدے بھجوانے میں کام لیا ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں بھی جلدی کرے گی۔اور کسی قسم کی غفلت اور تساہل سے کام نہیں لے گی۔میں نے بتایا ہے کہ اس سال تحریک جدید کا بجٹ تقریبا پچاس ہزار روپے تک پیچھے ہے۔بلکہ پچاس ہزار بھی نہیں ، اسی نوے ہزار روپیہ کے قریب اس پر بار ہے۔یعنی اس وقت تک جو رقوم ادا کی گئی ہیں ، وہ ساری کی ساری اس سال کے چندے میں سے ادا نہیں کی گئی بلکہ پچاس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے اور ابھی پانچ مہینے اخراجات کے باقی ہیں۔جنوری، فروری، مارچ، اپریل اور مئی۔ہمارا مالی سال اپریل میں ختم ہوتا ہے۔مگر مئی کے شروع میں جو اخراجات دیئے جاتے ہیں، وہ چونکہ اپریل کے ہوتے ہیں، اس 247