تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 244

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریکہ جلد سوم۔کامیاب اختتام تک پہنچانا ہے۔اب کسی ایک ملک یا دو ملکوں کا سوال نہیں۔اب کسی ایک مبلغ یا دو مبلغوں کا سوال نہیں اب سردھڑ کی بازی لگانے کا سوال ہے۔یا کفر جیتے گا اور ہم مریں گے ، یا کفر مرے گا اور ہم جیتیں گے، درمیان میں اب بات رہ نہیں سکتی۔ایک ادنیٰ سے ادنی سپاہی دس، پندرہ روپے لے کر میدان جنگ میں جاتا اور اپنے سینہ کو گولی کے لئے پیش کر دیتا ہے۔ہمارے لئے تو پندرہ کا سوال نہیں۔قرآن کہتا ہے کہ ہم نے مومنوں سے سودا کر لیا ہے، ہم نے ان سے ان کی جانیں اور مال لے لئے ہیں اور انھیں اپنی جنت دے دی ہے۔اگر پندرہ روپوں کے لئے ایک سپاہی اپنی جان دے سکتا ہے تو جنت کے لئے ایک مومن کو کتنی خوشی اور بشاشت سے قربانی پیش کرنی چاہئے۔پس اپنے دلوں سے دس یا میں کا سوال اٹھا دو۔یہ قربانی تمہیں مرتے دم تک کرنی پڑے گی۔جو کچھ ہوسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ چونکہ بعض نے اس تحریک کو صرف انیس سالہ تحریک سمجھ کر اتنا بوجھ اپنے اوپر برداشت کر لیا تھا، جو ان کی طاقت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھا، اس لئے دفتر سے بات کر کے ان کو اتنی کمی کرنے کی اجازت دے دی جائے گی کہ وہ مستقل طور پر آسانی کے ساتھ اس بوجھ کو اٹھاتے چلے جائیں۔ان کے علاوہ باقی تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق تحریک جدید میں حصہ لیں۔اسی حکمت کے ماتحت دفتر دوم قائم کیا گیا ہے، جس میں ہر وقت انسان شامل ہو سکتا ہے۔لیکن اس ارادہ کے ساتھ کہ وہ اپنا قدم اب پیچھے نہیں ہٹائے گا۔گویا یہ بھی ایک قسم کا وقف ہے، جس میں ہر شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میری جان اور مال اسلام کے لئے حاضر ہے۔پس اپنی توفیق کے مطابق ہر شخص کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔مرد بھی اور عورتیں بھی، بچے بھی اور بوڑھے بھی ، امیر بھی اور غریب بھی۔سب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق تحریک جدید کے دوسرے دور میں شریک ہوں۔دوسری مثال اسی قسم کے معاہدہ کی قرآن کریم میں موجود ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وَوعَدْنَا مُوسى ثَلْثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنُهَا بِعَشْرٍ (الاعراف ع ۱۷) ہم نے موسیٰ سے تمیں راتوں کا وعدہ کیا تھا مگر پھر ہم نے اس وعدہ کو چالیس راتوں میں بدل دیا۔آریوں اور عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ اسلام کا خدا نعوذ باللہ جھوٹا ہے۔کیونکہ اس نے تمیں کو چالیس کر دیا۔اگر خدا میں کو چالیس کر سکتا ہے تو میں تین کو دس اور دس کو انہیں کیوں نہیں کر سکتا ؟ اگر خدا عالم الغیب ہونے کے باوجود تھیں کو چالیس کر سکتا ہے تو میں، جو عالم الغیب نہیں ہوں، میں اس میعاد کو کیوں 244