تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 233

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود و 30 نومبر 1951ء تھے تو اب ہمارے وعدے تین لاکھ سے بھی اوپر نکل جائیں۔اور ساتویں سال کی جماعت اپنے وعدوں کو اور بڑھا کر دواڑھائی لاکھ تک پہنچا دے۔در حقیقت سیدھی بات تو یہ ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور خدا تعالیٰ نے ہی کرنا ہے۔ہمیں اگر خدمت کی توفیق ملتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہم پر فضل نازل ہو رہا ہے اور ہمیں اس کی رضا حاصل ہے۔اور اگر ہمیں خدمت کی توفیق نہیں ملتی تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم سے خفا ہے اور وہ ہمیں قربانیوں سے محروم کر کے ہمیں سزا دے رہا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہوتا ہے، جو وہ اپنے بندوں سے خدمت لے لیتا ہے۔بندوں کا خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں ہوتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ لا تَمُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَذَيكُمْ لِلْإِيْمَانِ (حجرات ۲۶ ۶۲ ) تم مجھ پر یہ احسان نہ جتلاؤ کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے۔اسلام قبول کر کے تم نے خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔پس جتنا جتنا کسی کو ثواب کا موقع ملنا ہے ، وہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہوتا ہے اور خدمت کے مواقع سے محروم ہو جانا یا اس میں کمی واقع ہو جانا ، یہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا نشان ہوتا ہے، خواہ دنیا میں کسی کو نظر آئے یا نہ آئے۔بہر حال جب بھی کوئی شخص قربانی میں کمزور ہوتا ہے ، وہ مالی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا وقت کی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا عزت اور وجاہت کی قربانی سے دریغ کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ بعض لوگ بے دین اور مرتد ہو جاتے ہیں۔بے شک مرتد ہونے پر وہ یہ کہتا ہے کہ الحمد للہ میں ہدایت پا گیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ارتداد سے پہلے اسے خدمت دین کی توفیق مل رہی تھی ؟ اگر اس کے حالات کو غور سے دیکھا جائے گا تو یہی معلوم ہوگا کہ وہ نمازوں میں بھی سست تھا ، چندوں میں بھی ست تھا، قومی کاموں میں بھی ست تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین کی محبت اس کے دل سے جاتی رہی، ایمان اڑ گیا اور ارتداد نے اس کی جگہ لے لی۔پس جب کسی شخص پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے تو اسے دین کی خدمت کی توفیق ملاتی ہے اور جب اس کی قربانیوں میں کمی آجائے تو یہ ثبوت ہوتا ہے، اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کا اس سے تعلق کمزور ہورہا ہے اور خدا تعالیٰ اس سے خفا ہے۔ایک اور بات میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس تحریک کے متعلق دوستوں کے دلوں میں جو غلط فہمی پائی جاتی ہے، خواہ اس غلط فہمی کے پیدا کرنے کا موجب میرے اپنے ہی اقوال کیوں نہ ہوں، اسے دور 233