تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 232
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم تو ابھی ایک لاکھ کے قریب وصولیاں باقی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اس سال اخراجات کی ایسے رنگ میں زیادتی ہوئی ہے کہ چندے کی وصولی اور اچھی وصولی کے باوجود ابھی تک اخراجات پورے نہیں ہوئے۔مثلاً اس وقت تک سترہویں سال کی ساری آمد خرچ ہو چکی ہے۔اس طرح ساتویں سال کی آمد بھی بجائے اس کے کہ ریزروفنڈ میں جاتی ، ساری کی ساری اس سال کے اخراجات میں صرف ہو چکی ہے۔اور اس کے علاوہ ابھی چوالیس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے۔گویا چوہتر فیصدی آمد کے باوجود بھی چھ مہینے کے اخراجات باقی ہیں۔یہ چھ ماہ کے اخراجات اسی صورت میں چل سکتے ہیں، جب ستر ہو ئیں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں اور سولہویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں اور جب ساتویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں اور چھٹے سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں۔تب جا کر یہ سال صحیح طور پر گزرسکتا ہے اور آئندہ سالوں کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی احباب یہ بھی مدنظر رکھیں کہ اگلے سال کے وعدے وہ نمایاں اضافوں کے ساتھ پیش کریں اور اپنا قدم آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔یہ غلط طریق ، جو اختیار کر لیا گیا تھا کہ وعدے اوپر سے نیچے آنے شروع ہو گئے تھے، اس کو دور کیا جائے اور دوست اپنے وعدوں میں نیچے سے اوپر کی طرف جائیں اور اپنے وعدوں میں زیادتی کریں۔ایک اور سخت ردک ، جو ہمارے راستہ میں پیدا ہوگئی ہے، دوست اس کو بھی مد نظر رکھیں اور وہ یہ کہ اب ہندوستان کا روپیہ ہمارے پاس نہیں آ رہا۔ہندوستان کہ چھتیس ہزار روپیہ کے وعدے تھے، جن میں سے ایک پیسہ بھی ہمیں نہیں مل سکتا۔ساری دنیا سے روپیہ یہاں آجاتا ہے اور ان کے وعدے یہاں پہنچ جاتے ہیں، لیکن ہندوستان سے روپیہ نہیں آسکتا۔اس کے علاوہ قادیان میں بھی روپیہ کی ضرورت ہے۔پس چھتیس ہزار کی تو اس طرح کمی آگئی۔در حقیقت ہندوستان کے وعدوں کو نکال کر دولاکھ ،ستائیس ہزار آمد پہلے دور کی رہ جاتی ہے اور ہمارا بجٹ ساڑھے چار لاکھ کا ہے۔پس کچھ تو وعدوں کے لحاظ سے کمی ہوئی ہے اور کچھ ہندوستان سے روپیہ نہ پہنچ سکنے کی وجہ سے کمی ہوئی ہے۔ہمیں اس سال کوشش کرنی چاہیے کہ ہندوستان کے وعدوں کے لحاظ سے ہمارے چندوں میں جو کمی ہوئی ہے، اس کو بھی پورا کریں۔اور افراد کی ستی اور غفلت نے جو کمی پیدا کی ہے، اس کو بھی دور کریں۔اور پھر پاکستان اور بیرونی دنیا کے وعدوں کو زیادہ سے زیادہ بلند کریں۔یہاں تک کہ یہ وعدے اس حد تک پہنچ جائیں ، جس حد تک چودہویں سال میں تھے۔بلکہ ہمیں تو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ چودہویں سال میں اگر دولاکھ ، تر اسی ہزار کے وعدے آئے 232