تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 228
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کرتی ہے، جب خدا تعالٰی کا تھپڑ ان کو پڑتا ہے۔اگر خدا تعالی ک تھپڑ نہیں پڑتا تو وہ قربانی بھی نہیں کرتے۔تو لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا تھپڑ پھر پڑے گا تا کہ ان کی سستی اور غفلت دور ہو۔یا تو یہ صورت ہوتی کہ دین اسلام کے متعلق یہ فیصلہ ہوتا کہ اس نے دنیا پر غالب نہیں آنا۔ایسی صورت میں ہم کہہ سکتے تھے کہ چلو جب اسلام نے غالب ہی نہیں آنا تو ہم اس کے لئے قربانی کیوں کریں؟ اور یا پھر یہ صورت ہوتی کہ دین کی ترویج غیر لوگوں کے ہاتھوں سے بھی ہو جاتی۔ایسی صورت میں بھی ہم کہ سکتے تھے کہ ہمارا کیا ہے، خدا تعالیٰ یہ کام ہندوؤں سے بھی کر والے گا یا عیسائیوں سے کروا لے گا؟ لیکن جب اسلام نے غالب آتا ہے اور ضرور آتا ہے اور جب اسلام نے ہمارے ہاتھوں سے ہی غالب ہونا ہے اور ہم عادی ہوں، اس بات کے کہ ہم تھپڑ کھاتے ہیں تو کام کرتے ہیں چھپڑ نہ پڑے تو کام نہیں کرتے تو سیدھی بات ہے کہ ہمیں تھپڑ پڑے گا اور پہلے سے زیادہ سخت پڑے گا۔پس وہ جو پہلی توجیح تھی کہ غربی پاکستان میں رہنے والے احمدی یا سندھ اور صوبہ سرحد میں رہنے والے احمدی ، جن کو مشرقی پنجاب والی چوٹ نہیں پڑی تھی۔ان کے دلوں میں زیادہ خوف پیدا ہوا اور ان کی وجہ سے ہمارے چندوں میں اضافہ ہو گیا لیکن بعد میں وہ اس صدمہ کو بھول گئے اور ان کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔یہ توجیح نہایت بھیانک خطرہ آئندہ کے لئے پیدا کرتی ہے، جس کو دیکھنا یا سننا بھی کوئی شخص برداشت نہیں کر سکتا۔اس کے مقابلہ میں ہمارا دل اس بات کو زیادہ برداشت کر لیتا ہے کہ کچھ احمد یوں میں کمزوری پیدا ہوئی اور انہوں نے اس تحریک میں اتنا حصہ نہیں لیا، جتنا حصہ انہیں لینا چاہئے تھا اور اس وجہ سے وعدوں میں کمی آگئی۔لیکن باقی احمدی اپنے اخلاص پر قائم رہے۔یہ توجیح زیادہ تسلی کا موجب ہوتی ، اگر ایسا ہوتا۔یہ نسبت اس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ اس ضرب کی وجہ سے، جو تقسیم ملک کی وجہ سے پڑی تھی ، لوگوں نے اپنی قربانی زیادہ کر دی تھی۔بہر حال کوئی وجہ بھی ہو تحریک جدید کے اس سال اور گزشتہ دو سال کے وعدے پسندیدہ نہیں سمجھے جاسکتے ، کیونکہ ان سالوں میں لوگوں کے وعدے اوپر سے نیچے کی طرف گرنے شروع ہو گئے ہیں۔اس سے پہلے ان کے وعدے نیچے سے اوپر کی طرف چڑھتے تھے اور یہی ایک مومن کی شان ہونی چاہیے کہ وہ نیچے نہ گرے۔اور واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد عام طور پر ہمارے ملک کی مالی حالت پہلے سے بہتر ہوگئی ہے تنخواہیں بڑھ گئی ہیں، تجارتیں وسیع ہو رہی ہیں ، کارخانے کھل گئے ہیں اور وہ وپیہ، جو پہلے ہندو کی جیب میں جاتا تھا ، اب مسلمان کے ہاتھ میں جاتا ہے اور بحصہ رسدی احمدیوں کے 228