تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 213

اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم بہانے بنائے گا اور دوسرے محکمہ کو لکھے گا کہ رپورٹ کرو، اس پر دس پندرہ دن لگ جائیں گے ، پھر تیسرے محکمے کو لکھا جائے گا کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور اس کی رپورٹ آنے تک دس، بارہ دن اور گزر جائیں گے۔پھر اوپر کے محکمہ کولکھا جائے گا کہ اب کیا کریں؟ لیکن مبلغ وہاں اکیلا بیٹھا ذلیل اور رسوا ہورہا ہے۔لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، کپڑے دھلانے کے لئے پیسے نہیں ، سفر کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں اور اس کا دل بیٹھا جاتا ہے۔پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔اور اگر تم نے اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرنی تو صاف کہہ دو کہ ہم کام نہیں کریں گے تاکہ ہم اس کے مطابق اپنی سکیم بدل دیں۔خدا تعالیٰ نے انسان پر اتنی ذمہ داریاں ہی ڈالی ہیں، جتنے سامان اسے مہیا کئے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ جو سامان مہیا کر دے گا ، اس کے مطابق ہم کام کرتے جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ مخلصین کی جماعت اس وقت آگے نکل آئے گی۔میں نے اس تحریک کا آغاز کرتے ہوئے ہی بتا دیا تھا کہ اس تحریک کی بنیاد روپے پر نہیں، اس کی بنیاد قربانی پر ہے۔اس وقت کئی لوگ ہزاروں میل پیدل یا جہاز کے ڈیک پر یاریل کا تھرڈ کا ٹکٹ لے کر باہر نکل گئے تھے۔میرے نزدیک اس ستی کی ذمہ داری صرف جماعت پر نہیں، دفتر پر بھی ہے۔نوجوان دفتروں میں آگئے ہیں اور انہیں ہوائی جہاز کے سفر کے سوا کوئی بات سوجھتی ہی نہیں۔اس کا بجٹ پر اثر پڑتا ہے۔لیکن اس کے علاوہ جو کام اس سے پہلے ایک وکیل اپنے ہاتھ سے کرتا تھا، اس کے لئے اب وہ ایک ایک، دود و کلرک مانگتا ہے۔ان چیزوں سے نقصان ہوتا ہے۔دس، بارہ سال تک جب تک کام میرے سپر درہا، اگر کوئی وکیل کہتا کہ مجھے ایک آدمی کی ضرورت ہے تو میں کہتا کہ تم بھی آدمی ہو، تم ہی کام کرو۔پہلے صرف دو آدمی تھے ، جن کے سپر د تحریک جدید کا کام تھا۔مولوی عبد الرحمان صاحب انور عام کاموں کے سیکرٹری تھے اور چوہدری برکت علی خان صاحب مال کے سیکرٹری تھے۔پھر قریشی عبدالرشید صاحب آگئے اور یہ تینوں کام چلاتے رہے۔اگر چہ بعد میں انہوں نے ایک ایک، دود و کلرک لے لئے تھے لیکن کام بہت سادہ تھا۔لیکن اب وہی محکمہ صدر انجمن احمدیہ کو چیلنج کر رہا ہے۔حالانکہ صدر انجمن احمدیہ کی آمد تحریک جدید کی آمد سے پانچ گنے زیادہ ہے۔نو جوان آئے اور انہوں نے مرکز کی اس روح کو بدل ڈالا۔معملہ بڑھایا جارہا ہے، پھر بھی کام میں دیر ہو جاتی ہے۔پہلے سیدھے سادھے طور پر وہ کاغذات میرے سامنے لاتے تھے، اب ہر جگہ شکایت ہے کہ کام کو لمبا کیا جاتا ہے۔کئی دفعہ خود مجھے تین تین، چار چار دفعہ کاغذ بھجوانے پڑتے ہیں، پھر کہیں جواب آتا ہے۔پہلی دفعہ کاغذ بھیجتا ہوں، چند دن کے بعد وہ سمجھتے ہیں، بھول گیا ہوں گا۔آخر میں بھی انسان ہوں، بعض دفعہ میں بھی بھول جاتا ہوں۔پھر دوبارہ کاغذ بھیجتا ہوں اور وہ کہتے ہیں ہم اس کا 213