تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 212

اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم پس تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔جماعت کے پاس روپیہ ہے۔ہم نے تقسیم ملک سے قبل جماعت کی ماہوار آمد کا اندازہ لگایا تھا تو وہ 13 لاکھ روپیہ کی تھی اور ابھی کئی وعدے وصول نہیں ہوئے تھے۔اندازہ تھا کہ پندرہ سولہ لاکھ روپیہ ماہوار جماعت کی آمد ہے۔اگر پندرہ سولہ لاکھ جماعت کی ایک ماہ کی آمد ہے تو اس کا اگر 33 فیصد بھی دیا جائے تو ہمیں چھ لاکھ روپیہ مل سکتا ہے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ وصولی بہت کم ہے۔تین لاکھ، پچاس ہزار روپیہ کے کل وعدے ہیں لیکن وصولی صرف ایک لاکھ، بارہ ہزار کی دفتر اول میں ہوئی ہے اور دفتر دوم میں صرف 40-30 ہزار روپیہ وصول ہوا ہے۔اس کی کام سے کوئی نسبت ہی نہیں۔تمام دنیا میں تبلیغ کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔تم پہاڑ کو خلالوں سے کھود نہیں سکتے ہم پھونکوں سے ہنڈیا کا نہیں سکتے ، تم تنکے پر بیٹھ کر دریا پار نہیں کر سکتے۔تم نے جو کام کرنا ہے، وہ نہایت عظیم الشان ہے۔اتنے قریب وقت میں اتنے وسیع پیمانے پر دنیا کی کسی اور قوم نے کام نہیں کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں معلومہ دنیا، شام، فلسطین، عراق، مصر اور عرب تک محدود تھی۔اب ہمارے مخاطب لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔تمام دنیا معلوم ہو چکی ہے اور سائنس کی ترقی کی وجہ سے ذرائع آمد و رفت میں سہولت پیدا ہوگئی ہے۔پہلی قوموں کے اگر دس پندرہ لاکھ انسان مخاطب ہوتے تھے تو ہمارے اڑھائی ارب انسان مخاطب ہیں۔اب تمہیں پہلوں سے بہت بڑھ کر قربانی کرنا پڑے گی۔لیکن واقع یہ ہے کہ ہم پہلوں والی قربانی بھی نہیں کرتے۔جب تک تم اپنی روح کو بدلو گئے نہیں، جب تک تم اس طرح غسل نہیں لے لیتے ، جس طرح حضرت مسیح نے جاری کیا تھا۔آپ نے بپتسمہ جاری کیا۔آپ جسم پر پانی کا چھینٹا دیتے اور کہتے ”لواب تو پاک ہو گیا ہے۔بپتسمہ کا مطلب یہی تھا کہ جس طرح تمہیں ظاہری غسل دیا گیا ہے اور اس سے تم پاک ہو گئے ہو، اسی طرح تم اپنی روح کو بھی غسل دو اور اسے صاف کرو۔پس جب تک تم اپنی روح میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے ہم اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکتے۔اگر تم نے وعدہ کر کے اسے ادا نہیں کرنا تو تم پہلے سے ہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے ؟ تم اس کام میں شامل ہو کر اور وعدوں کی عدم ادائیگی سے جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہو۔آج سے سترہ سال قبل بھی تو کام ہو رہا تھا، اگر چہ وہ محدود تھا لیکن اس وقت جماعت کا چندہ کہاں تھا؟ ہر زمانے کے مطابق انسان اپنی سکیم بناتا اور اس کے مطابق کام کرتا ہے۔لیکن اب سکیم بعض وعدہ کرنے والوں کے جھوٹے وعدوں کے مطابق بنائی جاتی ہے۔اس لئے درمیان میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔کل ہی ایک مبلغ کی شکایت آئی ہے کہ مجھے چھ ماہ تک کوئی خرچ نہیں ملا۔وہ مبلغ جھوٹ نہیں بولتا محکمہ بہانے بنائے گا، گو واقعہ کا انکار نہیں کرے گا۔لیکن حقیقت یہی نکلے گی کہ روپیہ نہیں تھا۔ویسے وہ 212