تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 9

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم دونوں میں سے کسی کا بچاؤ نہیں ہوسکتا۔خدا سے عہد باندھ کر اسے توڑ دینا ایسی چیز نہیں جو معاف کی جا سکے۔یہ اس دنیا میں بھی ان کو ذلیل کر دے گی اور اگلے جہاں میں بھی ان کو ذلیل کرے گی۔میرے اس خطبہ کے جواب میں ، ہمارے خاندان کے دو نو جوانوں نے مجھے لکھا ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف کی ہوئی ہیں۔میں نے اس محکمہ کے ذریعہ، جو وقف کا ریکارڈ رکھتا ہے، انہیں جواب دیا ہے کہ پہلے اپنی شکل تو اسلام اور احمدیت والی بناؤ۔اور اسلام اور احمدیت پر عمل کر کے دکھاؤ۔اگر تم اپنی شکل اسلام اور احمدیت والی نہیں بنا سکتے اور نہ اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہو تو تمہارا اپنے آپ کو وقف کرنا محض ایک دھوکہ ہوگا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس چیز کے لئے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دفتروں کی کلرکیاں کرنے کے لئے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تجارتیں کرنے کے لیے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رخانے قائم کرنے کے لیے آئے تھے؟ آخر کس چیز پر ہم ان کو لگا ئیں؟ جب وہ قرآن اور حدیث ہی نہیں جانتے اور جب وہ ان پر عامل ہی نہیں تو ہم ان کو کس چیز پر لگائیں ؟ جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلنے کے لئے نہیں ، جب ان کا لباس اور طور طریق بھی اسلام کے مطابق نہیں تو ہم نے ان کے وقف کو لے کر کیا کرنا ہے؟ آخر ان کو دیکھ کر ایک چمار عیسائی کے لباس اور ان کے لباس میں کیا فرق نظر آتا ہے؟ ایک چوڑھا عیسائی ہوتا ہے تو وہ بھی اسی طرح پینٹ پہن لیتا ہے۔ایک سانسی عیسائی ہوتا ہے تو وہ بھی اسی طرح پینٹ پہن لیتا ہے۔جب ان کے اندر اتنی بھی غیرت نہیں، جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان کے دلوں میں اتنی بھی محبت نہیں کہ وہ اپنے لباس اور طریق کو درست کر سکیں۔اور جب اسلام کی ان میں اتنی بھی محبت نہیں کہ وہ قرآن اور حدیث پڑھ کر دین کی واقفیت حاصل کریں تو ان کے وقف کے معنی ہی کیا ہیں؟ کلرک تو ہم عیسائی بھی نوکر رکھ سکتے ہیں، تجارت کا کام بھی عیسائیوں سے کروایا جا سکتا ہے۔جس کام پر غیر مذاہب کے لوگ نہیں رکھے جاسکتے ، وہ تبلیغ ہے، وہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہے۔اگر واقعہ میں ان کے دلوں میں اسلام اور احمدیت کی کوئی محبت ہے تو انہیں قرآن پڑھنا چاہئے ، حدیث پڑھنی چاہئے ، اپنے لباس اور طرز رہائش کو درست کرنا چاہئے۔جب تک وہ یہ کام نہیں کر سکتے ، اس وقت تک ان کا اپنے آپ کو وقف کرنا، دنیا کو بھی دھوکہ دینا ہے اور اپنے آپ کو بھی دھوکہ دینا ہے۔دنیا کو وہ دھوکہ دے سکتے ہیں۔لیکن اگر اپنے آپ کو بھی دھوکہ دیتے رہے تو انہیں سمجھ لینا چاہئے تو وہ اپنی نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کریں گے۔9