تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 201

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم "" اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 اگست 1951ء وہ راستہ قربانی کا اختیار کرو، جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 31 اگست 1951ء گزشتہ 17 سال سے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور سب سے پہلے میں نے قادیان کے لوگوں کو مخاطب کیا تھا اور اب میرے سامنے ربوہ کے لوگ بیٹھے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چند سالوں سے جماعت کی تحریک جدید کی طرف وہ توجہ نہیں رہی، جو پہلے تھی۔حالانکہ کام پہلے سے بیسیوں گنے بڑھ گیا ہے۔مبلغوں کی تعداد، جواب ہے، اس سے پہلے اس کا بیسیوں حصہ بھی نہیں تھی۔نظر جماعت کی جو عظیم اب ہے، اس سے پہلے اس کا بیبیوں حصہ بھی نہیں تھی۔جماعت کی جو تعداد، اب ہے، اس سے پہلے اس کا یوں حصہ بھی نہیں تھی۔الا ماشاء اللہ بعض جگہوں پر جماعت کم ہو گئی ہے، ورنہ عام طور پر جماعت بڑھتی ہے۔لیکن ابھی تک ہماری تبلیغ اتنی بھی نہیں، جتنا آٹے میں نمک ہوتا ہے۔اس وقت ہمارا مخاطب طبقہ دس پندرہ لاکھ کی تعداد میں ہے اور دنیا کی تعداد اڑھائی ارب ہے۔ہم نے تو اس تعداد کو دس کروڑ بنانا ہے اور پھر اڑھائی ارب لیکن ہم ابھی سے سو گئے ہیں۔جو تعداد ہماری مخاطب ہے، وہ اڑھائی ارب میں اڑھائی ہزارواں حصہ بھی نہیں۔اتنا حصہ نمک اگر آٹے میں ڈال دیا جائے تو اس کا پتہ بھی نہیں لگے گا۔مثلاً آدھ سیر آٹا ہو تو آدھ سیر میں 40 تولے ہوتے ہیں اور 40 تولے میں 480 ماشے ہوتے ہیں اور 480 ماشوں میں 3840 رتیاں ہوتی ہیں۔گویا ہم اگر دنیا کی آبادی کے لحاظ سے اپنی تبلیغ کا اندازہ لگائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح آدھ سیر آٹے میں رتی یا ڈیڑھ رتی نمک ڈالا جائے۔اگر آدھ سیر آٹے میں رتی یا ڈیڑھ رتی نمک ڈالا جائے تو اس کا پتہ بھی نہیں لگے گا بلکہ اگر اتنی مقدار نمک کی ایک لقمہ میں بھی ڈال لی جائے تو وہ زیادہ محسوس نہ ہو گا۔لیکن اتنی بات پر ہی ہم میں غفلت پیدا ہوگئی ہے۔حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ ہماری تبلیغ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچتی۔پھر یہ بھی سوچو کہ سارے لوگ ہماری بات نہیں مانتے۔دس، گیارہ لاکھ آدمی کے یہ معنی ہیں کہ ہزار، دو ہزار آدمی ہماری بات مانیں گے۔باقی لوگ ہمارے مخالف ہو جائیں گے یا بات سن کر اس پر عمل نہیں کریں گے۔اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے کہ ہماری تبلیغ ساری دنیا میں پھیلے تو دس ہیں یا تمیں ہزار کیا؟ دو، تین لاکھ ہماری باتیں سنیں اور انہیں مانیں ، تب کام ہوگا۔201