تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 200
اقتباس از تقریر فرموده کیم جون 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلدسوم چاہیے۔میں یہ نہیں کہتا کہ مبلغ میں کمزوری پیدا ہوئی تھی۔بلکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مبلغ کی روحانی اولاد میں کمزوری پیدا ہوگئی۔انہیں کبھی یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ تم نے اس خطہ میں پھیلنا ہے، تم نے اس علاقہ کی دوسری نسلوں کو روحانی طور پر ختم کرنا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ترقی رک گئی۔اب ان کو چاہیے کہ وہاں جا کر لوگوں کے اندر ایک نئی روح پیدا کریں۔ماریشس ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، جس کو فتح کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں میں ایک آگ پیدا کی جائے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے اور ہر احمدی مرد اور عورت کے دل میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے کہ ہم نے تمام علاقہ کو اسلام اور احمدیت کے لئے فتح کرنا ہے۔پھر مبلغ کی بعض دفعہ بہت سی طاقت اس لئے بھی ضائع چلی جاتی ہے کہ عورتوں کی تبلیغ اور ان کی تعلیم کے سلسلہ میں اس کا کوئی ہاتھ بٹانے والا نہیں ہوتا۔مگر خوش قسمتی سے ان کی بیوی ، جوان کے ساتھ جا رہی ہیں ، وہ ایک مخلص اور علم والی عورت ہیں۔پس اب کم سے کم ایک ایسا ہتھیار ان کے پاس موجود ہے، جو ہمارے پہلے مبلغوں کے پاس نہیں تھا۔حافظ صوفی غلام محمد صاحب کی بیوی بھی تعلیم یافتہ تھی ، بخاری تک انہوں نے پڑھی ہوئی تھی۔مگر تبلیغ کا ان میں اتنا مادہ نہیں تھا اور پھر وہ تقریر بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ان کی طبیعت میں حیا کا مادہ زیادہ تھا، خواہ ہم اسے غلط ہی قرار دیں۔مگر حافظ بشیر الدین صاحب کو خدا تعالیٰ نے یہ ایک زائد طاقت بخشی ہے کہ ان کی بیوی علم بھی رکھتی ہیں اور اس کو بیان کرنے کا بھی انہیں شوق ہے۔چنانچہ ان کے کئی اچھے اچھے مضامین چھپ چکے ہیں۔یہ ایک زائد چیز ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں نوازا ہے۔شاید خدا تعالیٰ نے اب اس جزیرہ کی قسمت بدلنے کا فیصلہ کر دیا ہے۔شاید خدا تعالیٰ اب اس مردہ زمین کو پھر زندہ کرنا چاہتا ہے۔پس اس خدائی تدبیر کو انہیں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئے اور جلد سے جلد ہمیں یہ خبر پہنچانی چاہئے کہ ماریشس اسلام اور احمدیت کے لئے فتح ہو گیا ہے۔پھر صرف ماریشس کا ہی سوال نہیں، اس کے ارد گرد کے جزائر کا بھی سوال ہے۔ماریشس کی آبادی چار، پانچ لاکھ کے قریب ہے۔مڈغاسکر کی آبادی 50 لاکھ ہے۔ریونین کی آبادی ایک لاکھ سے بھی کم ہے۔اسی طرح اور کئی جزائر ہیں ، جو ماریشس کے ارد گرد ہیں۔اگر ان لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وہ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کریں تو انہیں مختلف مقامات پر پھیلایا جاسکتا ہے۔اور اس طرح انہیں اتنی بڑی طاقت حاصل ہو سکتی ہے، جو صرف ماریشس ہی کو نہیں بلکہ اس کے اردگرد کے جزائر کو بھی درست کر سکتی ہے۔مطبوعہ روز نامه الفضل 19 جون 1951ء) 200