تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 199
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از تقریر فرموده یکم جون 1951ء پس ہمارے مبلغوں کو، جب بھی کسی ملک میں تبلیغ اسلام کے لئے جائیں ، اپنی اس حیثیت کو سمجھ کر جانا چاہئے کہ وہ ایک نئے آدم ہیں، جنہیں خدا تعالیٰ نے دنیا میں پیدا کیا ہے۔جب آدم کو خدا تعالیٰ ن پیدا کیا تو پہلی نسلیں ساری کی ساری ختم ہو گئیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب آدم پیدا ہوا تو اس وقت دنیا پر اورنسلیں بھی آباد تھیں۔تم ان کا نام جن رکھ لو، بھوت رکھ لو، پریت رکھ لو، شیطان رکھ لو ، ابلیس رکھ لو، بہر حال کوئی نہ کوئی مخلوق تھی، جس نے آدم سے بحث کی۔مگر آج وہ میرے ساتھ کیوں بحث نہیں کرتی؟ تمہیں ماننا پڑے گا کہ جب آدم پیدا ہوا تو آہستہ آہستہ وہ نسلیں ، جنہوں نے آدم کو نہیں مانا، دنیا سے مٹ گئیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو آدم کے لئے پیدا کیا تھا۔جب مالک آ گیا تو غاصب بھاگ گیا۔اب اس کا اس دنیا کے ساتھ کیا تعلق تھا؟ پس جب ایک مبلغ کو ملک میں بھجوایا جاتا ہے تو اسے اس یقین اور وثوق کے ساتھ اس ملک میں اپنا قدم رکھنا چاہئے کہ اسے اس ملک کے لئے آدم بنا کر بھیجوایا گیا ہے۔اب ظلماتی طاقتیں اس ملک میں باقی نہیں رہ سکتیں ، وہ مٹا دی جائیں گی ، وہ فنا کر دی جائیں گی اور صرف اس کی جسمانی یا روحانی نسل ہی اس ملک میں باقی رہے گی۔جب اس نیت اور ارادہ کے ساتھ کوئی شخص جا۔تو وہ کس طرح اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ چالیس یا پچاس آدمیوں نے بیعت کر لی ہے؟ وہ تو اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتا ، جب تک سارے ملک کو نہیں نہیں نہ کر دے۔جب تک چپے چپے پر آدم کی نسل کو نہ پھیلا دے۔ورنہ وہ آدم کس طرح ہے؟ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا بیج کس طرح ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے مبلغ یہ نیت اور ارادہ لے کر نہیں جاتے ، یہ آگ اپنے سینہ میں لے کر نہیں جاتے کہ ہم نے دنیا کے ایک ایک فرد کو اپنے اندر شامل کرنا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں وہ گرمی پیدا نہیں ہوتی، جو انسان کو کام کرنے پر آمادہ کر دیا کرتی ہے، جو کفر کو جلا کر بھسم کر دیا کرتی ہے۔وہ تو اس پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے ذریعہ سے دس ، ہمیں یا سو آدمی نجات پاگئے۔حافظ بشیر الدین صاحب، جو اس وقت ماریشس جارہے ہیں۔جیسا کہ انہوں نے بتایا ہے، ان کے والد اسی علاقہ میں کام کرتے رہے ہیں اور آخر کام کے دوران میں ہی وہ شہید ہو گئے۔آج صبح جب یہ میری ملاقات کے لئے آئے تو میں نے انہیں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہمیں اس جزیرہ میں بڑی کامیابی عطا فرمائی تھی۔مگر اب ہیں پچیس سال سے وہ ترقی ختم ہو چکی ہے اور شاذ و نادر ہی کسی بیعت کی اطلاع آتی ہے۔چنانچہ ان کے بیان کے مطابق 1923 ء سے لے کر اب تک صرف انیس بیعتیں ہوئی ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ در حقیقت اس ذمہ داری کا احساس تازہ نہیں رکھا گیا ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کی گئی تھی۔حالانکہ اس ذمہ داری کا احساس آدم میں ہی نہیں بلکہ آدم کی اولاد میں بھی ہونا 199