تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 8
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 30 جنوری 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اونچی ہوتی ہے۔وہ جتنا زیادہ اسلام کا منکر ہوتا ہے، اتنی ہی بلند آواز سے وہ اسلام، اسلام کا نعرہ لگاتا ہے۔تا اس کے اسلام سے انکار اور اسلام پر عمل نہ کرنے کے عیب پر پردہ پڑ سکے۔پس یہ وقت ہماری جماعت کے لئے نہایت ہی نازک ہے۔اس لئے کہ اسلام کی کشتی کو پار لگانا ہمارے ذمہ ہے۔بے شک ہر شخص، جو مسلمان کہلاتا ہے، یہ فرض اس پر بھی عائد ہوتا ہے۔لیکن یہ فرض اسے بھولا ہوا ہے اور نئے سرے سے وہ کوئی عہد نہیں کرتا۔اور اگر عہد کی کوئی حقیقت ہے؟ اگر عہد جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے، مسئول ہے؟ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا۔تو پھر اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے حضور تازہ عہد کرنے والے زیادہ ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔باقی لوگ وہ ہیں، جن میں سے کسی نے دس پشت سے اور کسی نے نہیں پشت سے عہد کیا تھا۔ماں باپ نے عہد کیا، جو اولا د نے بھلا دیا۔بے شک ان کی اولاد کا بھی فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کے عہد کی قدرو قیمت کا احساس کریں اور اپنے اعمال میں تغیر پیدا کریں۔لیکن اس عہد کی وہ شان نہیں ، جو اس عہد کی ہے، جو براہ راست کیا جائے۔پس جب تک جماعت اس ذمہ داری کو نہیں سمجھتی ، جو اس تازہ عہد کی وجہ سے اس پر عائد ہوتی ہے۔اس وقت تک وہ اپنے ایمان کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کرتی۔اور اس وقت تک اسلام اور احمد بیت کا بھی روشن مستقبل نظر نہیں آسکتا۔اس بارہ میں بے شک جماعت کے اور افراد بھی ذمہ دار ہیں مگر سب سے زیادہ فرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر عائد ہوتا ہے۔میں نے کہا تھا کہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں، جو اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے۔بہت سے ایسے ہیں ، جو دنیوی کاموں میں مشغول ہیں اور ایسے نازک وقت میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر اپنے ذاتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ ان کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں بالصراحت اس کا ذکر آتا ہے کہ اگر وہ نیکی کریں گے تو ان کی نیکیاں، انہیں دوسروں سے زیادہ ثواب کا مستحق بنا ئیں گی۔لیکن اگر وہ غلطیاں کریں گے تو ان کی غلطیاں، انہیں دوسروں سے زیادہ سزا کا مستحق بنائیں گی۔میں نے اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ جماعت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔جماعت بھی لفظی صاحبزاد گیوں کی طرف جاتی ہے۔حالانکہ لفظی صاحبزادگیوں کی بجائے ہمیں حقیقی صاحبزادگی اپنے مدنظر رکھنی چاہیے۔گویا ان کا طریق عمل بھی دوسروں کو سبق دینے والا نہیں۔شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں جتنی کمزوری ہوگی۔ہم کو اس سے زیادہ کمزوری دکھانے کا موقع ملے گا۔اس لئے منع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر اس طریق پر چل کر 8