تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 190
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تک جو چندے دینے کی توفیق ملی ہے، وہ نہ ملتی اور تم میں سے بہت سے لوگ پیچھے رہ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی پہلے پہل یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص تین ماہ کے بعد ایک دھیلہ بطور چندہ نہیں دیتا، وہ میری جماعت میں سے نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے، جنہوں نے وصیت میں اپنی آمد کا کم از کم دسواں حصہ دینے کا اعلان کیا۔اگر خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سے ایک دھیلہ فی سہ ماہی کی بجائے ماہوار آمد کا1/10 حصہ نکلوا تا تو بہت سے احمدی اس قربانی سے رہ جاتے۔ایک دھیلے فی سہ ماہی پر بھی لوگوں کے خطوط آتے تھے کہ اس سے لوگوں کو ٹھوکر لگے گی۔پھر اس دھیلے سے آمد کا1/10 ہوا، پھر تحریک ستمبر میں میں فیصدی ہوا، پھر میں فیصدی ہوا، پھر چالیس، پچاس فیصدی تک چندہ گیا۔گو یہ تحریک عارضی تھی لیکن اس میں پچاس فیصدی تک چندہ گیا ہے۔اور جماعت کا کچھ حصہ ایسا ہے، جس نے پچاس فیصدی کچھ عرصہ تک دیا ہے۔لیکن یہی تحریک کسی وقت ایک دھیلہ کے برابر تھی۔جو شخص اس زمانہ میں ایک سوروپیہ ماہوار کماتا ، اسے یہ کہا گیا تھا کہ تم ایک دھیلہ فی سہ ماہی دیا کرو۔تمہیں رو پید اور ایک دھیلہ میں کتنا فرق ہے؟ تمہیں روپے کے 3840 دھیلے بنتے ہیں۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چار ہزار گنا چندہ بڑھا دیا تھا۔پہلے کہا کہ تین ماہ کے بعد ایک دھیلہ دیا کرو۔پھر اسی شخص کو کہا کہ تم اپنی ماہوار آمد کا دس فیصدی دو۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے چندہ کو چار ہزار گنازیادہ کر دیا تو تمہارے دل میں وسوسہ نہ پیدا ہوا۔میں نے تحریک کی میعاد کو دس سال سے انیس سال کر دیا تو تمہیں اعتراض سوجھنے لگا۔میں اگر اس تحریک کو تمہاری ساری عمر کے لئے بھی کر دوں اور عمر ساٹھ ، ستر سال فرض کی جائے تو اس صورت میں میں اسے صرف 4 گنا کروں گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے چار ہزار گنا کر دیا تھا۔پھر نمازوں کو دیکھ لو، جب قائم ہوئی تو یہ دو رکعت تھی، پھر 4 رکعت ہوگئی۔جس کو تم قصر کہتے ہو ، وہ قصر نہیں ، وہ اصل ہے۔صرف عام نماز دگنی ہوگئی ہے۔گویا سفر میں آدھی نماز نہیں ساری ہے۔حضر میں وہ دگنی ہو گئی ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں، نماز قصر ہو گئی ، وہ قصر نہیں ہوئی۔بات یہ ہے کہ حضر میں نماز دگنی ہوگئی ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا، یہ زیادتی تمہارے ایمانوں کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔میں نے بھی تمہارے ایمانوں کو بچانے کے لئے قدم بقدم کام لیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا نماز کو دورکعت سے چار رکعت کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک دھیلہ فی سہ ماہی سے آمد کا دس فی صدی چندہ کر دینا دھوکہ نہیں اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو آئندہ ترقیات کا علم نہیں تھا تو میرا دس سال سے انہیں سال کرنا 190