تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 189
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم ہے، ان کے ایمان کے بچاؤ کا سوال ہے۔یہاں یہ سوال نہیں کہ ہم نفلی نیکی کر کے چندہ دیتے ہیں بلکہ اس پر ہماری زندگی کا انحصار ہے۔اگر تم غیر ممالک میں اپنے مراکز نہیں بناؤ گے تو جس طرح چوہے کو بل میں بند کر دیا جاتا ہے، تم بعض ممالک میں اس سے بھی بری طرح بند کر دیے جاؤ گے۔اسی طرح ایسے نیک طبیعت لوگ ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں مر جائیں گے، جن تک تم نے احمدیت کا پیغام نہیں پہنچایا ہوگا اور اس طرح تم خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم بن جاؤ گے۔پس مجھے جماعت کے افراد کی حالت کو دیکھ کر افسوس آتا ہے کہ وہ سستی اور غفلت دکھاتے کیوں ہیں؟ جیسا کہ میں نے پہلے بھی اعلان کیا ہے، سال کے بارہ مہینے گزر گئے ہیں لیکن وعدے نصف سے بھی کم وصول ہوئے ہیں۔اب میرے زور دینے کے بعد وصولی کی مقدار کچھ اونچی ہوئی ہے۔یہ طوعی چندہ ہے، جس کو تم اپنے اوپر فرض کر لیتے ہو۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا جو تم اقرار کرتے ہو، یہ تم مت سمجھو کہ وہ نفلی ہے ، وہ فرضی ہے اور قیامت کے دن یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے وہ عہد پورا کیوں نہیں کیا؟ پس تمہیں چاہئے تھا کہ تم اپنے عہد کو پورا کرتے۔لیکن انتہائی یاد دہانی کے بعد 52-51 فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔اور 52-51 فیصدی کے معنی یہ ہیں کہ اگلے سال بھی تم وعدہ پورا نہیں کر سکو گے۔اگر یہی حال رہا تو کام بڑھے گا کیسے؟ بہر حال اس امر کو سمجھتے ہوئے کہ جماعت پر عارضی طور پر غنودگی کا وقت آیا ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ صرف خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے، جس پر غنودگی اور نیند کا وقت نہیں آتا، اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے ، میں تحریک جدید کے سترھویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔بعض لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں اور ان میں بعض مبلغ بھی شامل ہیں کہ آپ نے پہلے دس سال کے چنیدہ کا اعلان کیا تھا، پھر اسے انیس سال کر دیا۔یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تمہارے لئے مدیر کی تھی کہ تم اپنے ایمانوں کو بڑھاؤ۔یہ اعتراض ایسا ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، کوئی شخص کسی جگہ سے گزر رہا تھا، اس نے دیکھا کہ ایک شخص گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھا تھا۔اس نے اسے کہا، میاں چھاؤں میں بیٹھ جاؤ۔اس نے جواب دیا، اگر میں چھاؤں میں بیٹھ جاؤں تو تم مجھے کیا دو گے؟ یہ تو خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے تدبیر کی ہے اور تم کہتے ہو یہ کیا بات ہے؟ پہلے پہل تو میرے منہ سے ایک مشتبہ فقرہ نکلا تھا۔جس سے بعض لوگوں نے ایک سال کی تحریک سمجھا تھا اور بعض لوگوں نے اسے تین سال کی تحریک سمجھا تھا۔اگر خدا تعالیٰ جماعت کو چوٹ نہ لگاتا، یہ مشتبہ فقرہ میرے منہ سے نہ نکلتا تو تم میں سے بعض کو 16 سال 189