تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 188

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تیار ہیں ، وہ احمدیت کومل جائیں گے۔اسی طرح باقی ممالک اور جزائر میں جولوگ سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، وہ احمد بیت کومل جائیں گے۔اگر سارے ممالک میں احمدی نہیں جائیں گے تو سچائی کو ماننے والے مر جائیں گے اور ہمارا ٹکراؤان سے ہوگا، جو سچائی کو نہیں مانیں گے۔پس دوسرے ممالک میں احمدیت کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، تمام انبیاء کے وقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھ لو، آپ فلسطین میں پیدا ہوئے لیکن ان کا مذہبی ٹکراؤ کبھی روما میں ہوا، کبھی مصر میں کبھی ایرانی سرحدوں پر ہوا۔ایک جگہ پر عیسائی مارے گئے تو انہوں نے اپنا مرکز دوسری جگہ بنالیا۔فلسطین میں اگر وہ تبلیغ نہ کر سکے تو انہوں نے اپنا مرکز اسکندریہ میں بنالیا۔پھر وہاں ظلم ہوا تو ٹرکی کے ساتھ ساتھ کے جزائر میں انہوں نے اپنا مرکز بنالیا۔وہاں ظلم ہوا تو وہ یونان میں چلے گئے اور وہاں اگر مخالفت ہوئی اور وہ کامیابی کے ساتھ تبلیغ نہ کر سکے تو انہوں نے اپنا مرکز روما میں بنالیا۔اسی طرح وہ تبلیغ کرتے گئے ، یہاں تک کہ وہ ساری دنیا پر غالب آگئے۔پس اگر ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ ہم نے تمام دنیا پر غالب آتا ہے تو ضروری ہے کہ ہم تمام ممالک میں اپنے مراکز بنائیں تا اگر ایک جگہ پر لوگوں میں جوش پیدا ہو جائے تو ہم دوسری جگہ اپناز ور لگائیں۔اور اگر ہم ایک ہی جگہ رہیں گے تو ہم فتنہ کا مقابلہ نہ کر سکیں گے۔تحریک جدید کے قیام کی یہی دو و جہیں ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ان دونوں وجوہ کو نظر انداز کر کے تمہاری ہستی قائم نہیں رہ سکتی۔ابھی تو در حقیقت یہ سوال ہی نہیں کہ ہم تبلیغ کے ان میدانوں میں ترقی حاصل کرنے کی کیا صورت کریں؟ ابھی بہت سے میدان ایسے ہیں، جہاں ہمارے مبلغ نہیں پہنچے۔ابھی تک ایسے ممالک بھی ہیں، جہاں احمدیت کی ابتدائی تبلیغ بھی نہیں ہوئی۔اور یہ ہزاروں ہزار کی تعداد میں ہیں۔صرف ہیں، چھپیں ایسے ممالک ہیں، جہاں احمدیت کی تبلیغ ہورہی ہے۔اور اگر جزائر کو ملا لیا جائے تو ان میں سے بعض مجموعے ایسے بھی ہیں، جو ہزار ہزار جزیرے پر مشتمل ہیں، اس طرح تین چار ہزار ایسے ممالک نکل آئیں گے، جہاں احمدیت کی تبلیغ نہیں ہوئی۔تبلیغ صرف ہیں ، پچیس ممالک میں ہورہی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ احمدی ہو جانے کے بعد لوگ یہ سوچتے نہیں رہتے کہ تبلیغ کا کیا مقام ہے؟ بہت سے لوگ تو تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھتے ہی نہیں۔وہ اس لئے چندہ دے دیتے ہیں کہ میری طرف سے چندہ کی تحریک ہوئی ہے۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ دروازہ پر سوالی آیا ہے، اس کی آواز رائیگاں نہ جائے۔حالانکہ یہاں ان کی زندگی کا سوال ہے، ان کے بیوی بچوں کی زندگی کا سوال ہے، ان کے ایمان کا سوال 188