تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 7
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1948ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد پر سب سے بڑا اور اہم فرض عائد ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1948ء۔۔۔یادرکھو کہ یہ زمانہ ہماری جماعت کے لئے نہایت ہی نازک ہے۔نہ صرف ہماری جماعت کے لئے بلکہ سارے اسلام کے لئے نازک ہے۔دوسرے مسلمان اس حقیقت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں، ہماری جماعت اس بات کی مدعی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ پیغام کی حامل ہے۔اگر دوسرے لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت کرتے ہوں تو اس کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہیے کہ ہم بھی غافل ہو جائیں۔اگر مسلمان اس حالت پر غور کریں، جو اس وقت اسلام کی ہے۔اگر وہ جھوٹے دعووں کو چھوڑ دیں، اگر وہ اس امر کو اپنے دلوں میں سے نکال دیں کہ ہم اللہ اکبر کے نعرے لگائیں گے تو یوں ہو جائے گا۔اور وہ اس دھو کہ سے اس طرح بچ سکتے ہیں کہ وہ غور اور فکر سے کام لیں۔اگر وہ اسلام کی موجودہ حالت پر سیح طور پر تدبر کریں تو انہیں نظر آئے گا کہ اسلام کے پاؤں اس وقت اکھڑ رہے ہیں، اسلام کی جڑیں اس وقت کے ہل رہی ہیں۔اسلام کی سیاسی حالت پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی ، اب عقائد کی حالت بھی کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔اور اس وقت اسلام کے نام کو دنیوی اغراض کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔جس طرح آج سے پہلے دنیا کا ہر وہ کام ، جس کے لئے قرآن آیا تھا ، لوگوں نے نظر انداز کر دیا تھا۔اور قرآن کریم کے صرف دو کام رہ گئے تھے ، مردوں پر پڑھنا اور عدالتوں میں قرآن ہاتھ میں لے کر جھوٹی قسمیں کھانا۔اسی طرح اس زمانہ میں اسلام کی غرض صرف اس قدر رہ گئی ہے کہ اسلام کا نام لے کر عوام الناس میں جوش پیدا کیا جائے اور سیاسی اغراض میں اس کی مدد سے اپنے رقیب کو شکست دینے کی کوشش کی جائے۔وہ عدالتوں میں جھوٹی قسمیں کھانا اور قبروں پر قرآن کا پڑھنا بھی ایک لغو کام تھا مگر یہ تو بہت ہی خطرناک اور اسلام کو سخت نقصان پہنچانے والا فعل ہے۔نام اسلام کا لیا جاتا ہے مگر غرض ایک دوسرے پر سیاسی فوقیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔اسلام، اسلام کا نعرہ لگانے والا خود اسلام پر عامل نہیں ہوتا۔وہ نماز کا تارک ہوتا ہے، وہ ان تمام آداب اور طریقوں کے خلاف چل رہا ہوتا ہے، جن کا اسلام نے بنی نوع انسان سے مطالبہ کیا ہے۔مگر وہ اسلام کا نعرہ لگانے میں سب سے زیادہ حصہ لیتا ہے۔اس کی آواز باقی سب آوازوں سے 7