تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 186

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کہ ہم سچائی کو قائم کر کے چھوڑیں گے تو خواہ وہ صداقت کی خاطر مارے جائیں گے، وہ ہاریں گے۔کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم سچائی کو قائم کر کے چھوڑیں گے۔یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مر جائیں مگر سچائی کو نہیں چھوڑیں گے۔پس اگر تم نے یہ کہا ہے کہ ہم نے سچائی کو قائم کرنا ہے تو اگر دشمن تمہیں مار دیتا ہے تو تمہارا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ہاں اگر تمہارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سچائی کا دامن نہیں چھوڑ نا اور دشمن تمہیں مار دیتا ہے تو تمہاری جیت ہوتی۔لیکن تم نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہم نے اسلام کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنا ہے۔اب اگر تم بحیثیت جماعت مرجاتے ہو تو تمہاری جیت نہیں ، ہار ہے۔اگر ایک آدمی مر جاتا ہے یا دو آدمی مر جاتے ہیں یا دس آدمی مر جاتے ہیں تو پھر تو جیت ہے۔لیکن بحیثیت قوم تم مرجاؤ تو یہ تمہاری ہار ہوگی۔جن قوموں کا یہ دعوئی ہوتا ہے کہ اگر دوسرے لوگ ہمیں ملک سے نکال بھی دیں ، تب بھی ہم نے سچائی کو قائم کر کے چھوڑنا ہے، ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں بھی اپنے مراکز بنا ئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قوم نے جب آپ کو نکال دیا تو آپ نے مدینہ میں اپنا مرکز قائم کیا۔بعض مسلمانوں کو آپ نے حبشہ کی طرف بھی بھیجا لیکن وہاں کا میابی نہیں ہوئی۔مگر مدینہ کی ہجرت کامیاب رہی۔حالانکہ ہجرتیں دونوں ہی تھیں۔ان میں فرق کیا تھا کہ حبشہ میں کامیابی نہ ہوئی اور مدینہ میں کامیابی ہوئی ؟ ان دونوں میں فرق یہ تھا کہ حبشہ میں ہجرت سے قبل کوئی مسلمان نہیں تھا، ہجرت کر کے وہاں جانے والوں کو خوش آمدید کہنے والا نہیں تھا، کوئی وطنی مسلمان ایسا نہیں تھا، جو ان کے ساتھ مل کر کام کرتا۔لیکن مدینہ میں ہجرت سے پہلے مسلمان موجود تھے۔پہلے دسیوں تھے، پھر بیسیوں ہوئے، پھر سینکڑوں ہوئے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہجرت سے پہلے لوگ بڑی تعداد میں مسلمان ہو چکے تھے۔بہر حال ہجرت سے قبل مدینہ میں ایسے ہزاروں مسلمان تھے، جو مدینہ کومرکز بنا کر تمام دنیا کے اندر اسلام کی اشاعت کرنے کے لئے تیار تھے اور یہی مسلمانوں کی کامیابی کا ذریعہ بنا۔پس جس جماعت نے تمام دنیا پر غالب آنے کا دعوی کیا ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں بھی اپنے مراکز بنائے۔تا اگر اسے اپنے ملک سے نکال دیا جائے تو وہاں سے دوسرے ملک میں چلے جائیں۔اور جتنے وسیع ملکوں میں وہ جماعت پھیلے گی، اتنے ہی زیادہ امکانات ہوں گے کہ وہ ان میں مرکز بنالیں گے۔کیونکہ ایک ہی وقت میں سارے ممالک مخالف نہیں ہو جاتے۔کسی کا مقولہ ہے تم کچھ آدمیوں کو ہمیشہ کے لئے دھوکہ دے سکتے ہو لیکن تم ساری دنیا کو ہمیشہ کے لئے دھوکہ نہیں دے سکتے۔اس نے ساری دنیا کو کچھ وقت تک دھوکہ دینے کے امکان کو ظاہر کیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا کو کچھ وقت کے لئے 186