تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 185

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء لئے اس کا یہ طریق ہے کہ وہ چھنٹے کی طرح بیج بوتا ہے اور اس طرح وہ ہمیں کام کرنے کا حکم دیتا ہے۔غرض ایک علاقہ کے ساتھ وابستہ ہونا، الہی سنت کے خلاف ہے۔دوسرے جو جماعتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں، یہ سنت ہے کہ لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمُ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَ کہ افسوس بنی نوع انسان پر کہ کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ میں نے کوئی رسول ان کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا ہو اور انہوں نے اس سے ٹھٹھا نہ کیا ہو۔اگر لوگ دشمنی کرتے ہیں تو ان کی دشمنی کی حد بندی کرنا، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ اتنی مخالفت کرو ، آگے نہ کرو۔یہ دشمن کا کام ہے کہ وہ اپنی دشمنی کی حد بندی کرے یا نہ کرے۔یہ جاہل کا کام ہے کہ وہ لڑائی کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو سمجھتا ہے کہ لڑائی یہاں تک ہوگی، آگے ختم ہو جائے گی۔ہمارے ملک میں ایک پاگل ڈپٹی کمشنر آیا تھا۔اس کا ایک بہرہ تھا۔وہ بہرہ ایک معزز اور غیرت مند خاندان سے تھا۔غربت کی وجہ سے اس نے بہرہ کا کام شروع کر دیا تھا۔ایک دن ڈپٹی کمشنر کو اس پر غصہ آیا اور اس نے اسے کہا سور۔بہرہ نے کہا تو سو ر تمہارا باپ سؤر۔ڈپٹی کمشنر کو یہ امید نہ تھی کہ وہ بہرہ ہو کر ایسا کہے گا۔وہ پاگل تھا لیکن اس کا دماغ منطقی تھا۔اس نے کہا بس بس ، آگے نہیں۔میں نے تم کو سور کہا ہے، تمہارے باپ کو سور نہیں کہا۔اس لئے تم مجھے گالی دے لولیکن میرے باپ کو کچھ نہ کہو۔یہ بے شک ایک مجنون کا فعل تھا لیکن سوال یہ ہے کہ جب لڑائیاں شروع ہو جائیں تو ان کی حد بندی کیوں؟ دشمن کبھی دس تک پہنچے گا، کبھی میں تک پہنچے گا کبھی میں تک پہنچے گا۔وہ قوم جاہل ہے، جو دشمنوں سے گھری ہوئی ہو اور پھر لڑائی کو محدود تصور کرے کہ فلاں حد تک دشمنی ہوگی ، آگے ختم ہو جائے گی۔دنیا کی مثالوں کو دیکھ لو کہ دشمنیاں کہاں تک گئی ہیں؟ یہ بھی ہوا ہے کہ کسی نے مار پیٹ کر چھوڑ دیا، یہ بھی ہوا کہ کسی نے لوٹ کر چھوڑ دیا، یہ بھی ہوا ہے کہ کسی نے کسی فرد کو قتل کر کے لڑائی ترک کر دی اور یہ بھی ہوا کہ اسے ملک سے نکال دیا۔اگر کسی شخص کا یہ مقصد ہے کہ وہ سچائی کے پیچھے ہے اور وہ کہے کہ اچھا ہم مر جائیں گے لیکن اسے چھوڑیں گے نہیں۔اور وہ مر جاتا ہے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔لیکن اگر اس نے سچائی کا صرف ساتھ نہیں دینا بلکہ دنیامیں قائم کرنا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم مر جائیں گے لیکن سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔کیونکہ اگر وہ مر جائیں گے تو ان کا مقصد ختم ہو جائے گا۔کیونکہ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم سچائی کو نہیں چھوڑیں گے۔اگر وہ کہتے ہیں ہم سچائی کو نہیں چھوڑیں گے تو ان کا مرنا ہی ان کی جیت ہوگا۔لیکن اگر وہ یہ کہتے ہیں 185