تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 184
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم روحانیت کے لحاظ سے تمام دنیا پر غالب کرے گا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی لائی ہوئی تلوار ہی اسلام کو سیاسی اور تمدنی طور پر دنیا پر غالب کرنے کے لئے کام کرے گی۔احمدیت یہ پیش کرتی ہے کہ سیاسی طور پر جو ہتھیار کام دے گا ، وہ قرآن کریم ہے اور مذہبی طور پر جو شخص اسلام کو دنیا پر غالب کرے گا اور دنیا میں اسے دوبارہ قائم کرے گا، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہی ایک شاگرد ہوگا۔لیکن بہر صورت یہ بات تو ہے کہ اسلام کی تبلیغ ہو یا اسلام دنیا میں پھیلے اور دوسرے ادیان پر اس کا غلبہ ہو ، ان امور کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے، روپے کی ضرورت ہے، وقت کی ضرورت ہے، کتابوں کی ضرورت ہے ، لٹریچر کی ضرورت ہے، اشتہاروں کی ضرورت ہے، اس کے لئے قربانی کرنی ہو گی۔دوسرے مسلمان اپناروپیہ تلواروں ، پستولوں اور گولہ بارود پر خرچ کریں گے مگر احمدی بھی خرچ سے نہیں بچیں گے۔وہ قرآن کریم ، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات کی برتری اور دین کی اشاعت اور سپاہی بھیجنے کی بجائے مبلغ بھیج کر اپنا روپیہ خرچ کریں گے۔اسی غرض کے لئے میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا اور اسی مقصد کے لئے ہر سال نئے سال کی تحریک کی جاتی ہے۔شاید کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لی جائے اور پھر باہر جایا جائے۔پاکستان میں ابھی 99 فیصدی یا اس سے بھی زیادہ لوگ احمدیت سے دور ہیں، پھر غیر ممالک میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے لئے یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب بھی وہ دنیا میں کوئی سچائی بھیجتا ہے ، وہ اسی طرح بھیجتا ہے، جس طرح زمیندار چھینٹا دے کر بیج ہوتا ہے۔یورپ میں بیج بونے کا طریق یہ ہے کہ پہلے نالیاں بنائی جاتی ہیں، پھر ان نالیوں میں بیج ڈالا جاتا ہے تا اسے ترتیب کے ساتھ اگایا جائے۔مگر یہ خدائی طریق نہیں۔الہی سنت یہی ہے۔بلکہ اس کے قانون قدرت میں یہی بات ہے کہ وہ چھنٹے کے طور پر پیچ ہوتا ہے۔پھر وہ پیج اپنی اپنی جگہ پر پھیلتا ہے۔اگر ہم یورپ کے طریق پر عمل کریں تو ملک کا سوال نہیں، جب ہم قادیان میں تھے، ہم بٹالہ کی تحصیل میں پہلے تبلیغ کرتے۔جب وہ سارے کے سارے لوگ احمدیت میں داخل ہو جاتے تو گورداسپور کے ضلع میں تبلیغ کرتے۔جب سارا ضلع احمدی ہو جاتا تو ہوشیار پور اور امرتسر کی طرف رخ کرتے۔جب یہ دونوں ضلعے احمدیت میں داخل ہو جاتے تو سیالکوٹ اور جالندھر کی طرف اپنی توجہ کرتے لیکن کوئی عقلمند شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس طرح کامیابی ہوتی۔بعض علاقوں میں ابھی تک دو دو، تین تین احمدی ہیں۔لیکن بعض علاقوں میں آج سے بیس سال قبل کوئی احمدی نہیں تھا ، اب ہزاروں احمدی ہیں۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون ماننے والا ہے اور کون نہیں؟ اس کے 184