تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 171
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 15 ستمبر 1950ء حاصل ہوگئی کہ زیادہ لوگوں کو دبا سکیں تو انہوں نے دبالیا۔لیکن اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔وہ اسی وقت اجازت دیتا ہے، جب مومنوں کی اکثریت ہو۔اقلیت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ زبر دستی حکومت پر قبضہ کر لے۔اس قسم کا خیال قطعاً غیر اسلامی ہے۔جس کی اسلام تائید نہیں کرتا۔اب یہ جو تعداد بڑھانے کا سوال ہے، یہ تبلیغ سے تعلق رکھتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ہمارے بیرونی مشنوں کی یہ حالت ہے کہ ہم انہیں با قاعدہ خرچ بھی نہیں دے سکتے۔ابھی دو، تین تاریں مجھے ربوہ سے آچکی ہیں کہ وہ ریز روفنڈ ، جو قرآن کریم کی اشاعت کے لیے قائم ہے، اس میں سے خرچ کرنے کی اجازت دی جائے۔میں نے انہیں جواب دے دیا ہے کہ مشن بے شک بند کر دیں، کیونکہ اس کی جماعت پر ذمہ داری ہے، مگر میں یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ریز روفنڈ ، جو قرآن کریم کے لئے محفوظ ہے، اسے خرچ کر دیا جائے۔باقی اس ملک کی تبلیغ ہے۔دینی نقطۂ نگاہ سے تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ نئے لوگ داخل ہوں گے تو ہماری مدد کریں گے۔لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ سے انسان خیال کر سکتا ہے کہ جماعت بڑھے گی " تو بوجھ اٹھانے والے بھی پیدا ہو جائیں گے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ تبلیغ کی طرف بھی بہت کم توجہ ہے“۔باقی تبلیغ کے متعلق میں نے گذشتہ دنوں خدام الاحمدیہ کو کچھ مشورہ دیا تھا۔جماعت کے دوستوں کو بھی میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ بغیر تبلیغ کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہم کوئی پولیٹیکل جماعت نہیں کہ موقع پاکر اکثریت پر غالب آجائیں اور اپنا افتد ارلوگوں پر قائم کر لیں۔یہ طریق ہمارے غلبہ کا نہیں۔ہمارا غلبہ صرف دلوں پر ہو سکتا ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ سرکاری اداروں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لیں۔یہ شیطانی طریق ہے۔خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں کا طریق نہیں۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو کیا وہ ڈنڈے کے زور سے لوگوں کو ٹھیک نہیں کر سکتا تھا؟ وہ ایک دن میں اپنے فرشتے بھیج کر ابو جہل کی گردن مروڑ سکتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے ابو جہل کی گردن مروڑنے کے لئے نہیں بھیجے بلکہ اس کے بیٹے عکرمہ کا دل مروڑنے کے لئے بھیجے اور وہ مسلمان ہو گیا۔پس اسلامی طریق یہی ہے کہ دلوں پر غلبہ حاصل کیا جائے اور اس کے لئے تبلیغ ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ تبلیغ کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر کے احمدیت کے حلقہ کو وسیع کرنے کی کوشش کریں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں کے بعض دوست واقع میں تبلیغ کرتے ہیں۔اور ان کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جدو جہد کے نتیجہ میں ایک جماعت احمدیت کے قریب آرہی ہے۔مگر ایک لمبے عرصہ تک ان کے قریب آنے کے دھوکہ میں مبتلا رہنا بھی غلطی ہوتی ہے۔کچھ عرصہ کی تبلیغ کے بعد ان کو صاف طور 171