تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 5

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 1948ء پس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مایوس نہیں ہوں۔اور اس وقت بھی صرف یہی ایک راستہ مجھے نظر آرہا ہے کہ وہ خدا، جو ہمیشہ میرا اور ہماری جماعت کا ساتھ دیتا رہا، وہ اب بھی اپنی ساری قوتوں کے ساتھ موجود ہے۔اور اس کی سنت ہمیں بتاتی ہے بلکہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اب بھی وہ ہماری مدد کرے گا۔پس خدا کی سنت کے ماتحت تو ہمیں کامیابی کا پورا یقین ہے مگر اپنے مادی اسباب کے ذریعہ ہمیں کامیابی کی کوئی امید نہیں۔کیونکہ مادی اسباب کو مہیا کرنے کا کام جماعت کے کندھوں پر ہے اور جماعت نے اس حد تک اپنے فرض کو نہیں پہچانا ، جس حد تک پہچاننا چاہیے تھا۔اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ جماعت کے وہ لوگ ، جو اس عظیم الشان تغیر سے سبق حاصل نہ کرتے ہوئے ،ہستیوں کو نہیں چھوڑتے ، وہ کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد نہ بن جائیں۔میری مثال اس وقت اس عورت کی سی ہے، جس کی ایک بیٹی کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری مالیوں کے ہاں۔جب کبھی بادل اسے آسمان پر نظر آتے تھے تو وہ عورت گھبراہٹ کی حالت میں ادھر ادھر پھرتی اور کہتی کہ میری دونوں بیٹیوں میں سے ایک کی خیر نہیں۔یعنی اگر بادل برس گیا تو وہ لڑکی ، جو کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے، اس کے مٹی کے برتنوں کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔اور اگر بادل نہ بر سا تو وہ لڑکی ، جو مالیوں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے، اس کے باغ کے پودوں اور سبزیوں کے خشک ہو جانے کو کا خطرہ ہے۔میں بھی جب ان حالات پر غور کرتا ہوں تو میری حالت بالکل اس عورت کی سی ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب میں سوچتا ہوں کہ یہ سلسلہ کو اس وقت فلاں فلاں مشکلات کا سامنا ہے تو میرا دل سلسلہ کی وجہ سے گھبرا اٹھتا ہے۔مگر جب میں گزشتہ لمبے تجربہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کی سنت اور سلوک کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان ستی دکھانے والے لوگوں کے انجام کی وجہ سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ جب خدا تعالی سلسلہ کو ان تمام مصائب اور ابتلاؤں سے نکال لے گا تو ان سنتی دکھانے والوں کو مصائب میں ڈال دے گا۔پس کبھی ایک صدمہ میرے دل پر طاری ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرا۔کیونکہ قدرتی طور پر مجھے ان لوگوں سے جنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں شمولیت اختیار کی ہے، محبت اور انس ہے۔یوں تو سلسلہ پر میرا کوئی عزیز سے عزیز بھی قربان ہو جائے تو مجھے ہر گز پرواہ نہ ہوگی۔مگر ایک شخص کے میرے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھے جو محبت اور پیار اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس سے میں مجبور ہوں کہ میں اسے توجہ دلاؤں کہ وہ اپنے حالات کو درست کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچالے۔اور ساتھ ہی وہ مایوس بھی نہ ہو کہ جماعت کا اب کیا بنے گا؟ بلکہ وہ سمجھ لے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے 5