تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 4

خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 1948 ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس ساٹھ فیصدی حصہ نے، جو تباہی سے سو فیصدی بچا رہا ہے، اپنے فرائض کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔پھر تحریک جدید کے چودھویں سال میں وعدے پیش کرنے والوں میں ان لوگوں کے وعدے بھی شامل ہیں، جن کی ساری جائیداد میں تباہ ہو چکی ہیں۔انہوں نے یہ وعدے اس لیے پیش نہیں کیے کہ ان کے پاس ان وعدوں کے پورا کرنے کے سامان موجود ہیں۔بلکہ انہوں نے میرے کہنے پر اپنے وعدے پیش کر دیئے ہیں۔اس امید پر کہ شاید خدا تعالیٰ انہیں وعدوں کو پورا کرنے کی توفیق دے دے۔اور یہ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں کی حالت اس سال درست ہوتی ہے یا اگلے سال یا چند سالوں میں جا کر ہوگی۔بہر حال چودھویں سال کے وعدوں میں سے ایسے لوگوں کے وعدے، جو شاید ہیں یا پچیس فیصدی ہوں گے، کم کر دینے پڑیں گے۔اس لئے کہ شاید وہ لوگ اپنے وعدوں کو پورا نہ کر سکیں۔اگر ان وعدوں کو بھی کم کر دیا جائے تو باقی وعدوں کی تعداد بہت تھوڑی رہ جاتی ہے۔پس میں جماعت کے ان دوستوں کو ، جن پر وہ آفت نہیں آئی ، جو مشرقی پنجاب کے احمدیوں پر آئی تھی ، ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ، یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے بھجوائیں اور زیادہ سے زیادہ بھجوائیں اور جلد سے جلد انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔اس کے ساتھ ہی پچھلے سال کے وعدوں میں سے جو ایک لاکھ کے وعدے ابھی تک وصول ہونے باقی ہیں، ان کو بھی پورا کریں۔تحریک جدید کے وعدوں کی کمی کے ساتھ ہی صدر انجمن احمد یہ کے چندوں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔یہ صورتحال نہایت خطرناک ہے۔کیونکہ سلسلہ گذشتہ مہینوں میں دو، تین لاکھ کا مقروض ہو چکا ہے۔اگر جماعت نے اپنے فرائض کونہ پہچانا اور اس کمی کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہ کی۔تو دو، چار مہینوں کے اندر سلسلہ کے دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔یہ تو مجھے یقین ہے اور میری قریباً ساٹھ سالہ عمر کا تجربہ بتا رہا ہے کہ سلسلہ بھی دیوالیہ نہیں ہوگا۔مگر مجھے ڈر ہے کہ قربانیوں اور چندوں میں سستی دکھانے والے دیوالیہ نہ ہو جائیں۔ایک لمبا تجربہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ایک لمبازمانہ ہماری جماعت کی مخالفت میں مولویوں نے بھی زور گایا اور حکومت نے بھی۔عیسائیوں نے بھی زور لگایا اور آریوں نے بھی۔ہندؤوں نے بھی زور لگایا اور سکھوں نے بھی۔اور یکے بعد دیگرے مخالفت کے بیسیوں طوفان آئے سینکڑوں گھٹائیں اٹھیں۔مگر عین اس وقت جب کہ جماعت کو کوئی راستہ کامیابی کا نظر نہ آتا تھا، خدا تعالیٰ نے ہمیشہ ہی مجھے اور جماعت کا کامیاب بنایا اور مخالفین کو نیچا دکھایا۔اور مخالفت کے وہ خوفناک بادل، جن کے متعلق یہ خیال کیا جا تا تھا کہ وہ کبھی دور نہیں ہوں گے، خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ہی آپ چھٹ جاتے رہے۔4