تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 3

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 1948ء ہمارے پاس موجود ہے، جہاں ہم باہر کی جماعتوں کو بار بار بلا کر ظہر کیں۔پھر ہماری جماعت کا معتد بہ حصہ تہی دست ہو چکا ہے اور اسی لئے ہمارے چندوں میں بھی کمی واقع ہوگئی ہے۔گویا اس وقت ہماری مشینری کی کوئی کل بھی ٹھیک نہیں رہی اور کوئی پرزہ بھی اپنی چول میں ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ہر کل اور ہر چول ڈھیلی ہو چکی ہے اور ہر سامان بگڑا ہوا ہے۔اس وقت دنیا کی کوئی اور جماعت ہوتی تو اسے بہت زیادہ پریشانی لاحق ہوتی۔مگر ہماری جماعت کے لئے یہ وقت پریشانی کے خیالات کو لے کر بیٹھ جانے کا نہیں بلکہ قربانیوں کے مظاہرے کا وقت ہے۔اس وقت جماعت کا کچھ حصہ تو ایسا ہے ، جو اپنی قربانیوں میں اضافہ کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اس کا قدم آگے کی طرف اٹھ رہا ہے۔مگر کچھ حصہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ اس نے اس عظیم الشان تغیر کو ایک کھیل سے زیادہ وقعت نہیں دی۔یا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس حصہ کے اندر احساس کی کمی ہے اور یا یہ سمجھا جائے گا کہ اس کے اندر ایمان کی کمی ہے اور عقل کے ہوتے ہوئے بھی اس نے غور نہیں کیا کہ یہ تغیر ہم سے کیا چاہتا ہے؟ اس حصہ کو چھوڑ کر باقی جماعت اخلاص اور قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کر رہی ہے اور ہر شہر اور ہر قصبہ میں اخلاص دکھانے والے موجود ہیں۔اسی طرح ایشیا، یورپ اور امریکہ اور انڈونیشیا کی جماعتیں بھی قربانی کا شاندار مظاہرہ کر رہی ہے۔یہ اخلاص کا نمونہ دکھانے والے ہمارے لئے اس خوشخبری کا پیش خیمہ ہیں کہ آہستہ آہستہ جماعت ایک ایسے مقام پر پہنچے گی، جس پر پہنچنا خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔بہر حال جماعت کو قربانیوں کی طرف اور اس کے فرائض کی طرف توجہ دلانا اور اس کو ابھارنا میرا اور جماعت کے ہر کارکن کا فرض ہے۔گزشتہ ایام میں ، میں نے تحریک جدید کے چودھویں سال کا اعلان کیا تھا مگر اس کے متعلق بار بار دفتر کی طرف سے مجھے یہ رپورٹ ملی ہے کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت وعدوں میں بہت زیادہ کمی ہے۔اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ جماعت میں سے چالیس فیصدی لوگ غریب ہو چکے ہیں، ان کی جائیدادیں جاتی رہیں، ان کی تجارتیں تباہ ہو گئیں اور ان کے املاک و اسباب چھن گئے۔اور وہ اس وقت کنگالی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔اور اگر وہ تھوڑا بہت کماتے بھی ہیں تو بڑی مشکل سے وہ اپنے لئے بستر یا کپڑے یا خوردنوش کا انتظام کرتے ہیں۔لیکن جہاں کمی کی یہ وجہ موجود ہے، وہاں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جماعت کا ساٹھ فیصدی حصہ ایسا ہے، جس پر کوئی مصیبت نہیں آئی اور خدا تعالیٰ نے انہیں تباہی سے بچالیا ہے۔اگر یہ ساٹھ فیصدی تباہی سے بچ جانے والا حصہ اس نکتہ کو سمجھتا اور وہ اپنے تباہ شدہ چالیس فیصدی بھائیوں کا بوجھ اٹھالیتا تو اس کمی کو دور کیا جاسکتا تھا اور وہ حصہ سلسلہ کے لئے مفید ہوسکتا تھا۔مگر 3